امریکی ہر نومبر میں ایک اضافی گھنٹے کی نیند کیوں لیتے ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: امریکا میں ہر سال نومبر کے آغاز پر لاکھوں افراد کو ایک اضافی گھنٹے کی نیند کا موقع ملتا ہے، کیونکہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ وقت میں معمولی تبدیلی ہے، تاہم اس کے پس منظر میں جنگی ضروریات، توانائی کی بچت، نقل و حمل کے مسائل اور سیاسی اختلافات پر مشتمل ایک صدی سے زائد پرانی تاریخ موجود ہے۔

اس سال امریکا میں یکم نومبر کو ڈے لائٹ سیونگ ٹائم (DST) ختم ہو جائے گا۔ اتوار کی رات 2 بجتے ہی بیشتر ریاستوں میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کرکے دوبارہ ایک بجے پر لائی جائیں گی، جس کے ساتھ ہی ملک معیاری وقت پر واپس آجائے گا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شہریوں کو بظاہر ایک گھنٹہ اضافی نیند ملے گی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا میں سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت کیوں تبدیل کیا جاتا ہے؟ اس نظام کا آغاز کس نے کیا، اس کے بنیادی مقاصد کیا تھے اور ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود امریکی قانون ساز اسے ختم کرنے یا مستقل طور پر تبدیل کرنے پر کیوں متفق نہیں ہو سکے؟

ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

ڈے لائٹ سیونگ ٹائم ایک موسمی نظام ہے جس کے تحت گرم مہینوں میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر دیا جاتا ہے تاکہ دن کی روشنی کا زیادہ حصہ شام کے اوقات میں دستیاب ہو سکے۔

امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق، اس نظام کا بنیادی مقصد گھڑی کے اوقات کو لوگوں کی روزمرہ سرگرمیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے دن کی دستیاب روشنی سے بہتر فائدہ اٹھانا ہے۔

یہ نظام سال میں دو مرتبہ کام کرتا ہے، جسے عام طور پر اسپرنگ فارورڈ اور فال بیک کہا جاتا ہے۔

اسپرنگ فارورڈ: ایک گھنٹے کی نیند کم

ہر سال مارچ کے دوسرے اتوار کو ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا آغاز ہوتا ہے۔ اس روز رات 2 بجے گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کرکے 3 بجا دیا جاتا ہے۔ یوں لوگوں کو اس رات معمول سے ایک گھنٹہ کم سونے کا موقع ملتا ہے۔

فال بیک: ایک اضافی گھنٹے کی نیند

یہ نظام نومبر کے پہلے اتوار تک جاری رہتا ہے۔ اس روز رات 2 بجے گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کرکے دوبارہ ایک بجے پر لایا جاتا ہے۔ اس طرح شہریوں کو ایک گھنٹہ اضافی ملتا ہے اور ملک دوبارہ معیاری وقت پر منتقل ہو جاتا ہے۔

اس نظام کا مقصد شام کے اوقات میں زیادہ روشنی فراہم کرنا ہے، کیونکہ لوگ عموماً کام یا اسکول سے واپسی کے بعد خریداری، کھیلوں، تفریح اور دیگر بیرونی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس انتظام سے اسکول جانے والے بچوں اور صبح سویرے کام پر جانے والے ملازمین کے اندھیرے میں سفر کرنے کے امکانات بھی بعض اوقات کم ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، اگر سورج صبح 6 بجے طلوع اور شام 6 بجے غروب ہوتا ہے تو گھڑی ایک گھنٹہ آگے کرنے کے بعد طلوع آفتاب صبح 7 بجے اور غروب آفتاب شام 7 بجے دکھائی دے گا۔

تاہم، اس تبدیلی سے سورج کی حقیقی پوزیشن یا دن کی روشنی کے دورانیے میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ صرف گھڑی کے وقت اور قدرتی روشنی کے درمیان مطابقت تبدیل ہوتی ہے۔

امریکا میں گھڑیوں کا وقت ایک ساتھ کیسے تبدیل ہوتا ہے؟

امریکا کے وسیع جغرافیائی رقبے کے باعث ملک بھر میں وقت کا ایک ہی نظام برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ نیویارک جیسے مشرقی شہروں میں جب سورج طلوع ہو رہا ہوتا ہے تو کیلیفورنیا جیسی مغربی ریاستوں میں اس وقت بھی اندھیرا ہو سکتا ہے۔

اسی فرق کو منظم کرنے کے لیے امریکا کو مختلف معیاری ٹائم زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر خطہ اپنے مقررہ مقامی وقت کے مطابق کام کرتا ہے۔ ملک کا سرکاری وقت حکومتی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

معیاری وقت اور ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے درمیان تبدیلی ایک طے شدہ قانونی نظام کے تحت ہوتی ہے۔ کمپیوٹر، اسمارٹ فونز، بینکنگ نیٹ ورکس، سفری نظام اور دیگر ڈیجیٹل آلات عموماً اپنی ٹائم زون کی ترتیبات کے مطابق خودکار طور پر وقت تبدیل کر لیتے ہیں۔

امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن ٹائم زونز اور ڈے لائٹ سیونگ ٹائم سے متعلق قانونی معاملات کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ اور یو ایس نیول آبزرویٹری وقت کی درست پیمائش اور قومی معیار برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

جدید ایٹمی گھڑیوں کے ذریعے انتہائی درست وقت کی پیمائش کرتا ہے۔ یہ نظام کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم کے عالمی معیار سے ہم آہنگ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔

حکومتی ادارے، جی پی ایس کا بنیادی ڈھانچہ اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس بھی وقت کے انتہائی درست سگنلز اور ہم آہنگی کے نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے درست ٹائم زون کی ترتیبات رکھنے والے آلات مقررہ تاریخ اور وقت پر خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں مقیم ان افراد کے لیے بھی اس تبدیلی کی اہمیت ہے جو امریکی کاروباری اداروں، یونیورسٹیوں یا وہاں رہنے والے رشتہ داروں سے رابطے میں رہتے ہیں، کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان وقت کا فرق تبدیل ہو جاتا ہے۔

ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے دوران نیویارک پاکستان سے 9 گھنٹے پیچھے ہوتا ہے، جبکہ معیاری وقت کے نفاذ کے بعد یہ فرق 10 گھنٹے ہو جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، جب نیویارک میں دوپہر کے 12 بج رہے ہوں تو پاکستان میں رات کے 9 بجے ہوتے ہیں۔ تاہم یکم نومبر کو گھڑیوں کی تبدیلی کے بعد نیویارک میں دوپہر 12 بجنے پر پاکستان میں رات کے 10 بج رہے ہوں گے۔

امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا آغاز کیسے ہوا؟

امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کی تاریخ پہلی جنگ عظیم سے جڑی ہوئی ہے۔ ملک نے 1918 میں باضابطہ طور پر اس نظام کو اپنایا تھا، جس کا بنیادی مقصد جنگی ضروریات کے پیش نظر ایندھن اور توانائی کی بچت کرنا تھا۔ اس سے قبل کئی یورپی ممالک بھی اسی نوعیت کے تجربات کر چکے تھے۔

تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد اس نظام میں یکسانیت برقرار نہ رہ سکی۔ کانگریس نے وفاقی سطح پر اس کی پابندی ختم کر دی اور ریاستوں کو فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی کہ وہ اس نظام کو جاری رکھنا چاہتی ہیں یا نہیں۔

اس فیصلے کے نتیجے میں مختلف ریاستوں اور بعض اوقات ایک ہی ریاست کے شہروں میں بھی وقت کے مختلف نظام رائج ہو گئے۔ اس سے ریلوے، بسوں، کاروباری سرگرمیوں اور مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں میں مشکلات پیدا ہونے لگیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ معاملہ دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا۔ فروری 1942 میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ملک بھر میں سال بھر کے لیے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا، جسے ‘وار ٹائم’ کا نام دیا گیا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر ریاستوں اور مقامی انتظامیہ نے وقت کی تبدیلی کے حوالے سے مختلف طریقے اختیار کر لیے، جس سے پہلے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

بالآخر ان مسائل کے حل کے لیے کانگریس نے 1966 میں یونیفارم ٹائم ایکٹ منظور کیا، جس کے ذریعے ملک میں وقت کے تعین کا ایک زیادہ یکساں قانونی نظام متعارف کرایا گیا۔

ابتدائی قانون کے تحت گھڑیاں اپریل کے آخری اتوار کو ایک گھنٹہ آگے اور اکتوبر کے آخری اتوار کو دوبارہ پیچھے کی جاتی تھیں۔

بعد ازاں 1986 میں قانون میں ترمیم کرکے ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے آغاز کو اپریل کے پہلے اتوار تک منتقل کر دیا گیا۔

اس نظام میں ایک اور بڑی تبدیلی انرجی پالیسی ایکٹ 2005 کے ذریعے آئی، جس کا اطلاق 2007 میں ہوا۔ اس کے تحت موجودہ شیڈول متعارف کرایا گیا، جس کے مطابق ڈے لائٹ سیونگ ٹائم مارچ کے دوسرے اتوار کو شروع اور نومبر کے پہلے اتوار کو ختم ہوتا ہے۔

اس قانون سازی میں توانائی کے استعمال اور شام کے اوقات میں اضافی روشنی کی دستیابی سے متعلق ممکنہ فوائد کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

نتیجتاً، ڈے لائٹ سیونگ ٹائم پر عمل کرنے والی امریکی ریاستوں میں شہری ہر سال تقریباً 238 دن اس نظام کے تحت گزارتے ہیں۔

تاہم امریکا کے تمام علاقے اس نظام کی پیروی نہیں کرتے۔ ہوائی اور ایریزونا کے بیشتر حصوں میں گھڑیوں کا وقت موسمی طور پر تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح امریکی ساموا، گوام، شمالی ماریانا جزائر، پورٹو ریکو اور یو ایس ورجن آئی لینڈز میں بھی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ نہیں ہے۔

امریکا میں سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کی تبدیلی ختم کرنے پر بحث کیوں جاری ہے؟

ایک صدی سے زائد عرصے کے تجربات اور متعدد قانونی ترامیم کے باوجود امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے مستقبل پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

اس معاملے پر بحث بنیادی طور پر تین مختلف مؤقف کے گرد گھومتی ہے۔

پہلا گروہ موجودہ نظام برقرار رکھنے کا حامی ہے، جس کے تحت مارچ میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور نومبر میں دوبارہ پیچھے کی جاتی ہیں۔

دوسرا گروہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا حامی ہے۔ اس تجویز کے تحت گھڑیاں پورا سال ایک گھنٹہ آگے رہیں گی اور موسم خزاں میں وقت پیچھے کرنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

تیسرا گروہ مستقل معیاری وقت کی حمایت کرتا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ پورا سال روایتی وقت برقرار رکھنے سے قدرتی دن کی روشنی کے اوقات کے ساتھ بہتر مطابقت پیدا ہو سکتی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل کرنے کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں، جس کے بعد اس معاملے کو سیاسی سطح پر مزید توجہ حاصل ہوئی۔

سن شائن پروٹیکشن ایکٹ کا کیا بنا؟

ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل کرنے کی کوشش نئی نہیں ہے۔ 2022 میں امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر سن شائن پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا تھا، جس کا مقصد پورے ملک میں مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کرکے سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کی تبدیلی ختم کرنا تھا۔

تاہم یہ بل ایوان نمائندگان سے منظوری حاصل نہ کر سکا اور یوں قانون کی شکل اختیار نہیں کر پایا۔

اس معاملے پر بحث جولائی 2026 میں دوبارہ شروع ہوئی، جب سن شائن پروٹیکشن ایکٹ ایوان نمائندگان میں دوبارہ پیش کیا گیا۔ مجوزہ قانون کے تحت پورے امریکا میں مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ انفرادی ریاستوں کو اس نظام سے باہر نکلنے کی اجازت دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

اگرچہ اس تجویز نے موسمی طور پر گھڑیاں تبدیل کرنے کے نظام کو ختم کرنے کی بحث کو دوبارہ زندہ کیا ہے، تاہم اسے اب بھی سیاسی اور قانون سازی کے مراحل سے گزرنا ہے۔

کچھ امریکی مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے مخالف کیوں ہیں؟

مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے شام کے اوقات میں زیادہ روشنی دستیاب ہوگی اور شہریوں کو کام اور اسکول کے بعد بیرونی سرگرمیوں کے لیے اضافی وقت ملے گا۔

تاہم مخالفین کے مطابق اس نظام سے سردیوں کی صبحوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، خصوصاً امریکا کی شمالی ریاستوں میں جہاں طلوع آفتاب پہلے ہی نسبتاً دیر سے ہوتا ہے۔

ان کے خدشات کے مطابق مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ ہونے کی صورت میں بعض علاقوں میں سردیوں کے دوران سورج صبح 9 بجے تک طلوع نہیں ہوگا۔ اس طرح اسکول جانے والے بچوں اور کام پر روانہ ہونے والے ملازمین کو طویل وقت تک اندھیرے میں سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔

مخالفین ماضی میں امریکا کے سال بھر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے تجربے کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سردیوں کی صبحوں میں دیر سے طلوع آفتاب کے مسائل نے اس نظام کو ترک کرنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن پر مجوزہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا اور سوشل میڈیا پر سینیٹر کے موبائل فون نمبر کے طور پر پیش کیا گیا نمبر شیئر کرتے ہوئے عوام کو بل کی حمایت میں ان سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔

دوسری جانب سینیٹر کاٹن نے مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے نفاذ کی سابقہ کوششوں سے جڑے مسائل، بالخصوص سردیوں میں دیر سے طلوع آفتاب کے اثرات، کو اجاگر کیا ہے۔

کیا امریکی سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنا چھوڑ دیں گے؟

امریکا میں ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا مستقبل تاحال غیر یقینی ہے، کیونکہ قانون ساز اس نظام میں مجوزہ تبدیلیوں پر بحث کر رہے ہیں۔

کسی بھی مجوزہ تبدیلی کو قانون کا حصہ بننے کے لیے کانگریس کے ضروری مراحل سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اسے صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔

اگر موجودہ قانون سازی کانگریس کے دستیاب وقت میں آگے نہ بڑھ سکی تو اس کے حامیوں کو آئندہ قانون ساز اجلاس میں دوبارہ کوشش کرنا پڑ سکتی ہے۔

فی الحال امریکا میں موجودہ نظام برقرار رہے گا۔ یکم نومبر کو لاکھوں امریکی اپنی گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کریں گے، اضافی گھنٹے کی نیند لیں گے اور دوبارہ معیاری وقت پر منتقل ہو جائیں گے۔

تاہم ہر سال ہونے والی یہ تبدیلی محض گھڑیوں کو آگے یا پیچھے کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے کہ آیا امریکا کو موسموں کے مطابق وقت تبدیل کرنے کا موجودہ نظام جاری رکھنا چاہیے یا مستقل طور پر کسی ایک نظام کا انتخاب کر لینا چاہیے؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.