عاصم مصطفیٰ اعوان
اسلام اباد: پاکستان میں کئی نسلوں سے بچوں کو تعلیم کے حصول کے لیے ایک ایسے خطرناک سفر کا سامنا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ طلبہ گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی بسوں اور ویگنوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، بعض گاڑیوں کی چھتوں پر بیٹھتے ہیں تو کچھ بسوں کے پچھلے حصوں سے لٹک کر اسکول پہنچتے ہیں۔ یوں تعلیم کے حصول کے لیے روزانہ کا سفر ان کی زندگیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
یہ صورتحال ملک کے مختلف علاقوں میں عام دکھائی دیتی ہے۔ بچوں کو پہلے ہی مسافروں سے کھچا کھچ بھری گاڑیوں میں جگہ بنانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض بچے گاڑیوں کی چھتوں پر بیٹھ کر یا پچھلے حصوں سے لٹک کر سفر کرتے ہیں۔ ایسے میں اچانک بریک لگنا، گرفت چھوٹ جانا یا گاڑی سے نیچے گر کر پہیوں تلے آ جانا کسی بھی خاندان کی خوشیوں کو لمحوں میں ناقابلِ تلافی سانحے میں بدل سکتا ہے۔
خصوصاً ان والدین کے لیے، جو مہنگے ٹرانسپورٹ اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، بچوں کو اسکول پہنچانے کے لیے یہی غیر محفوظ ذرائع واحد دستیاب راستہ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب بچوں کے لیے اسکول جانا روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، لیکن ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنانا والدین کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور متعلقہ حکام کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں تعلیم کی مجموعی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے، جبکہ اسکولوں تک محفوظ رسائی کا فقدان اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف (UNICEF) کے اندازوں کے مطابق، ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔ غربت، تعلیمی سہولیات کی محدود دستیابی اور تعلیم کے شعبے میں ناکافی سرکاری سرمایہ کاری بچوں کی تعلیم کے حصول میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
حکومتیں وقتاً فوقتاً تعلیمی اصلاحات، نصاب میں تبدیلیوں اور یکساں تعلیمی معیارات کے نفاذ کے وعدے کرتی رہی ہیں، تاہم ان اقدامات کے ساتھ بچوں کے اسکولوں تک محفوظ سفر کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔
جس بچے کے لیے اسکول تک پہنچنا ہی غیر محفوظ ہو، اس کے لیے نصاب میں بہتری اور تعلیمی پالیسیوں کی تبدیلی کے ثمرات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی ایسے خاندان کے لیے تعلیمی اصلاحات کوئی تسلی نہیں دے سکتیں جس نے اسکول جاتے ہوئے اپنا بچہ کھو دیا ہو۔
تعلیم کا تصور محض اسکول میں داخلے، نصابی کتب کی فراہمی اور امتحانات کے انعقاد تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں محفوظ سفری سہولیات، فعال تعلیمی اداروں اور ہر طالب علم کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسکولوں کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ کے مؤثر انتظامات کرے، گاڑیوں میں طلبہ کی مقررہ گنجائش پر عمل درآمد یقینی بنائے اور خلاف ورزی کرنے والے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرے۔ بچوں کے لیے محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کو تعلیمی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
آخرکار، کوئی بھی قوم اپنے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، اگر انہیں علم حاصل کرنے کے راستے پر ہی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا پڑے۔
تصویر: اے پی پی
