کیا عرب جماعتیں اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت گرا دیں گی؟

0

نیوز ڈیسک

تل ابیب: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے حکومت برقرار رکھنے کا راستہ مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ ان کے سیاسی اتحاد اور اپوزیشن میں سے کوئی بھی حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتوں کی 19 نشستیں حکومت سازی کے لیے اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم نیتن یاہو کے اتحاد کو صرف 53 نشستیں مل سکی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجموعی طور پر 48 نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب عرب جماعتوں کے حصے میں 19 نشستیں آئی ہیں، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ان کا کردار اہم ہوگیا ہے۔

انتخابی نتائج میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم اسے حکومت بنانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

خصوصی ووٹوں، جنہیں ڈبل انویلپ ووٹ کہا جاتا ہے، کی گنتی بھی مکمل کرلی گئی ہے۔ ان میں فوجیوں، قیدیوں، بیرون ملک تعینات سفارت کاروں اور اسپتالوں میں زیر علاج افراد کے ووٹ شامل تھے۔ ان ووٹوں کی گنتی کے باوجود سیاسی اتحادوں کی نشستوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

دیگر جماعتوں میں گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے 21 نشستیں حاصل کیں، جبکہ بی یاخاد کو 12 اور جوائنٹ لسٹ کو 11 نشستیں ملیں۔ ڈیموکریٹس اور رعام نے آٹھ، آٹھ نشستیں حاصل کیں۔ یونائیٹڈ تورہ جوڈازم، اسرائیل بیتینو اور اوتسما یہودیت کو سات، سات، جبکہ شاس اور ریلیجس صیہونزم کو چھ، چھ نشستیں ملیں۔

دوسری جانب انتخابات کے بعد مبینہ بیرونی مداخلت، ووٹوں کی خریداری اور عرب شہریوں کی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں شرکت کے الزامات نے اسرائیل کی سیاست میں نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ عرب جماعتوں کو مبینہ طور پر ووٹوں کی خریداری اور غیر قانونی طریقوں سے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے کا فائدہ پہنچا۔ جماعت نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے انتخابات کو چوری شدہ قرار دیا ہے۔

ان الزامات کے تناظر میں اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیٹ قطر اور ترکی سے مبینہ طور پر منسلک غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے عرب ووٹرز کو انتخابی عمل میں متحرک کرنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا خصوصی تحقیقاتی یونٹ لاہاو 433 بھی مبینہ رشوت ستانی کے معاملے کی چھان بین کر رہا ہے۔

تاہم ان الزامات کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ الیکشن کمیشن کے چیئرمین نوم سولبرگ نے مبینہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کے لیے شن بیٹ سے رابطہ کیا تھا، لیکن کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کے مطابق انتخابات میں منظم پیمانے پر بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی حمایت میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ قطر نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔

ادھر اپوزیشن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ غیر مصدقہ الزامات کو بنیاد بنا کر انتخابی نتائج یا عرب شہریوں کی جمہوری عمل میں شرکت کو مشکوک نہیں بنایا جانا چاہیے۔

انتخابی نتائج کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گے یا اپوزیشن عرب جماعتوں کے تعاون سے متبادل حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرے گی۔ تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد یا تعاون بعض یہودی جماعتوں کے لیے ایک مشکل سیاسی فیصلہ ہوسکتا ہے۔

حتمی نتائج کی منظوری کے بعد اسرائیلی صدر کسی رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ اگر کوئی بھی رہنما مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ملک میں ایک بار پھر نئے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.