نیوز ڈیسک
ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کردیا، جس کے بعد حکام نے علاقے میں جاری ہنگامی صورتحال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا گیا اور انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا۔
میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر سعودی محکمہ شہری دفاع نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض، وسطی علاقے الخرج اور جنوبی شہر نجران میں ہنگامی انتباہ جاری کیا تھا۔ تاہم چند منٹ بعد حکام نے خطرہ ٹلنے کی اطلاع دیتے ہوئے شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔
شہری دفاع نے عوام سے غیر ضروری اجتماعات اور میزائل حملوں یا دفاعی کارروائیوں کی ویڈیوز بنانے سے بھی گریز کرنے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کو طویل عرصے سے پڑوسی ملک یمن میں جاری تنازع کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے۔
سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد تشکیل دیا تھا، جبکہ حوثی گروپ 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے متعدد علاقوں پر قابض ہے۔
