امریکا کے فوجی اڈوں میں فریزرز کی پراسرار خرابی کے پیچھے کون؟

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: امریکا کے مختلف فوجی اڈوں پر فریزرز اور کولنگ سسٹمز کی پُراسرار خرابیوں نے سائبر سکیورٹی سے متعلق نئے خدشات پیدا کردیے ہیں، جہاں پینٹاگون ان واقعات کو ممکنہ سائبر حملوں کا نتیجہ سمجھتے ہوئے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان خرابیوں کے باعث فوجی اڈوں کے اسٹورز میں بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگست میں امریکا کے کم از کم چھ فوجی اڈوں پر قائم کمیشنری اسٹورز کے فریزرز متاثر ہوئے تھے۔ 

معاملے سے واقف چار امریکی حکام نے بتایا کہ حکام ان واقعات میں ممکنہ ہیکنگ کے پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان خرابیوں کے پیچھے کون ملوث تھا یا تحقیقات کس مرحلے میں ہیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق فوجی تفتیش کار اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام سے بھی رابطے میں ہیں، جہاں رواں ماہ کے آغاز میں سپر مارکیٹوں کے کمرشل فریزرز کو بھی اسی نوعیت کے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پینٹاگون نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی سائبر کمانڈ کا ایک یونٹ متعلقہ سرکاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

 دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے تحت آرمی کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن نے تصدیق کی ہے کہ اس کا سائبر فیلڈ آفس بھی تحقیقات میں شامل ہے اور یورپ میں کولنگ سسٹمز کی خرابیوں کو سمجھنے کے لیے فرانسیسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ فوجی اڈوں پر کمیشنری اسٹورز قائم ہیں، جہاں فوجی اہلکار روزمرہ استعمال کی خوراک اور دیگر اشیا خریدتے ہیں۔ اگست کے آخری دنوں میں پیش آنے والے ان واقعات کی تصدیق متعلقہ فوجی اڈوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹس پر جاری کردہ اطلاعات سے بھی ہوئی ہے۔

ایک واقعے میں فریزرز مکمل طور پر بند ہونے کے بجائے ان کے کولنگ سسٹم کا درجہ حرارت رات کے وقت بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں صبح تک بڑی مقدار میں خوراک پگھل کر خراب ہوگئی۔ 

ایریزونا کے فورٹ ہواچوکا فوجی اڈے کے فیس بک اکاؤنٹ پر 26 اگست کو جاری پیغام میں بتایا گیا تھا کہ وہاں ایک فریزر ڈی فراسٹ موڈ میں چلا گیا، جس کے باعث اندر رکھی خوراک گرم ہوکر ناقابل استعمال ہوگئی۔

امریکا میں سامنے آنے والے واقعات سے قبل فرانس میں بھی کولنگ سسٹمز کو نشانہ بنانے کا ایک بڑا سائبر حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ اس واقعے میں ہیکرز نے 350 سے زائد تجارتی مراکز کے کولنگ یونٹس کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے والے نظاموں میں مداخلت کی تھی۔ 

اس کے نتیجے میں متعدد سپر مارکیٹوں کو منجمد خوراک کے حصے خالی کرنا پڑے، جبکہ بعض مقامات پر فریزرز کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھنے سے آگ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے۔

ایک فرانسیسی سپر مارکیٹ کے مالک نے اس حملے کے نتیجے میں ملک بھر میں ہونے والے مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ کروڑوں یورو لگایا تھا۔

ماہرین کے مطابق فرانس میں متاثر ہونے والے متعدد کولنگ یونٹس پرانے کنٹرولرز اور فرسودہ سافٹ ویئر استعمال کر رہے تھے، جس سے ہیکرز کے لیے ان تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا۔ ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس نے بھی بتایا تھا کہ متاثرہ آلات میں سے کئی پرانا فرم ویئر استعمال کر رہے تھے۔ تاہم امریکی فوجی اڈوں پر استعمال ہونے والے کولنگ کنٹرولرز کے بارے میں ابھی کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

صنعتی سائبر سکیورٹی کمپنی زونا سسٹمز کے چیف ایگزیکٹو بل مور کے مطابق کولنگ سسٹمز کے کنٹرولرز ماضی میں ایسے آلات تھے جنہیں تکنیکی عملہ موقع پر جاکر چلاتا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کے باعث اب انہیں انٹرنیٹ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے ان نظاموں کو سائبر حملوں کے لیے ممکنہ طور پر کمزور بنا دیا ہے۔

بل مور نے خبردار کیا کہ کولنگ سسٹمز پر سائبر حملے نہ صرف خوراک کو خراب کرسکتے ہیں بلکہ خوراک کی ترسیل اور سپلائی چین میں بھی بڑے پیمانے پر خلل ڈال سکتے ہیں۔ گلوبل فوڈ سیفٹی انیشی ایٹو نے بھی رواں سال خوراک کے تحفظ سے وابستہ ماہرین اور آئی ٹی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ریفریجریشن ٹیکنالوجی کی سائبر سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔

اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں فریزرز اور ریفریجریشن سسٹمز کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 

ڈینفوس کے مطابق 2022 میں روس اور اسرائیل کی بعض سپر مارکیٹوں میں اس کے پرانے کولڈ اسٹوریج کنٹرولرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 

اسی طرح امریکی وفاقی استغاثہ نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک یوکرینی خاتون پر ایسے ہیکر گروپ کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس نے 2024 میں ایک گوشت پراسیسنگ پلانٹ کے ریفریجریشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا تھا، جس کے نتیجے میں 2 ہزار پاؤنڈ سے زائد گوشت خراب ہوگیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکی فوجی اڈوں پر فریزرز کی خرابی سائبر حملوں کا نتیجہ ثابت ہوتی ہے تو یہ اس بات کی نشاندہی ہوگی کہ ہیکرز اب صرف کمپیوٹر نیٹ ورکس ہی نہیں بلکہ خوراک کے ذخیرے، کولنگ سسٹمز اور اہم سپلائی چین کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.