نیوز ڈیسک
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری دستاویزات میں ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’اے آئی‘ کی اصطلاحات کو ’سپر انٹیلی جنس‘ اور ’ایس آئی‘ سے تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس مجوزہ تبدیلی نے ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان اصطلاحات کی درستگی، جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور صدارتی اختیارات کی حدود سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
نیوز ویک کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی ترجمان لز ہسٹن نے کہا ہے کہ امریکا سپر انٹیلی جنس کے شعبے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور وفاقی حکومت کو ایسی اصطلاحات اختیار کرنی چاہئیں جو جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کی بہتر عکاسی کریں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت کی اصطلاح کے مسلسل استعمال پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل سے متعلق ایک پوسٹ میں انہوں نے سوال کیا کہ اخبار ٹیکنالوجی کے لیے ’اے آئی‘ کے بجائے ’ایس آئی‘ کی اصطلاح کب استعمال کرنا شروع کرے گا۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ’مصنوعی ذہانت‘ کی اصطلاح تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کی موجودہ اور مستقبل کی صلاحیتوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، جبکہ ’سپر انٹیلی جنس‘ ان صلاحیتوں کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرتی ہے جنہیں ان کی انتظامیہ فروغ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے سرکاری دستاویزات اور حکومتی مواصلات میں موجودہ اصطلاحات کی جگہ نئی اصطلاحات استعمال کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
اس مجوزہ تبدیلی نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا کسی ٹیکنالوجی کا نام تبدیل کرنے سے اس کی حقیقی صلاحیتوں اور عوامی تصور میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے؟
’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح متنازع کیوں ہے؟
مصنوعی ذہانت کے نظام سائنسی تحقیق، طب، خودکار نظاموں اور تخلیقی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں، تاہم محققین موجودہ مصنوعی ذہانت اور سپر انٹیلی جنس کے درمیان واضح فرق کرتے ہیں۔
تکنیکی مباحث میں ’سپر انٹیلی جنس‘ سے مراد ایسی ذہانت ہے جو علمی صلاحیتوں کے وسیع دائرے میں انسانی کارکردگی سے آگے نکل جائے۔ اس لیے یہ اصطلاح ذہانت کی ایک غیر معمولی سطح کو ظاہر کرتی ہے، جسے ہر موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق، ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’سپر انٹیلی جنس‘ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے سے سائنسی تحقیق، عوامی پالیسی اور حکومتی ابلاغ میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔ موجودہ اے آئی نظاموں کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر شعبے میں انسانی کارکردگی سے بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس لیے یہ بحث محض اصطلاحات کی تبدیلی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ حکومتیں نئی ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں اور حدود کو کس انداز میں بیان کرتی ہیں اور ان کی مستقبل کی ترقی سے متعلق عوامی توقعات کیسے تشکیل دیتی ہیں۔
امریکی تکنیکی برتری اور اصطلاحات کی تبدیلی
ٹرمپ انتظامیہ نے اصطلاحات میں مجوزہ تبدیلی کو امریکی تکنیکی برتری اجاگر کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی ترجمان لز ہسٹن کا کہنا ہے کہ ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح انتظامیہ کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد جدت طرازی کو فروغ دینا، امریکی معیشت کو مضبوط بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔
تاہم اس تبدیلی کے عملی نفاذ، سرکاری اصطلاحات پر اس کے اثرات اور تکنیکی حلقوں میں اس کی قبولیت سے متعلق سوالات بدستور اہم ہیں۔ ماہرین کے نزدیک ٹیکنالوجی کی اصطلاحات کا انتخاب کرتے وقت سائنسی درستگی اور صلاحیتوں کی حقیقی وضاحت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
