کیا انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے؟ پوٹن کی دلچسپی نے نئی بحث چھیڑ دی

0

نیوز ڈیسک

ماسکو: کیا سائنسی ترقی انسان کی عمر کو 150 سال تک بڑھانے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟

کیا عمر رسیدگی کے حیاتیاتی عمل کو سست کرکے انسان نہ صرف زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ بڑھاپے میں بھی صحت مند اور فعال رہ سکتا ہے؟

یہ سوالات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، خصوصاً روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طویل عمری سے متعلق دلچسپی اور ان کی بڑی بیٹی ماریا وورونسووا کے حالیہ خیالات کے بعد۔

ماسکو میں منعقدہ ایک تقریب، جس کا عنوان ’لائیو لانگ، جیو ڈیفرنٹلی‘ تھا، سے خطاب کرتے ہوئے اینڈوکرائنولوجسٹ ماریا وورونسووا نے مبینہ طور پر اس امکان پر روشنی ڈالی کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں میں طبی سائنس میں ہونے والی پیش رفت انسانی زندگی کو طول دینے کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔

 وہ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے میڈیکل ریسرچ اینڈ ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ ہیں۔

ان کے خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں سائنس دان عمر رسیدگی کے اسباب، عمر سے متعلق بیماریوں اور انسانی جسم کی مرمت و بحالی کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد صرف زندگی کے سال بڑھانا نہیں، بلکہ ان برسوں میں صحت، جسمانی صلاحیت اور ذہنی فعالیت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

طویل عمر کے حصول کے دو راستے

انسانی عمر میں اضافے کے لیے ایک راستہ صحت مند طرزِ زندگی ہے، جبکہ دوسرا جدید طبی تحقیق اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔

متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، تمباکو نوشی سے اجتناب اور شراب نوشی کو محدود رکھنے جیسے اقدامات متعدد بیماریوں کے خطرات کم کرنے اور صحت مند زندگی کی مدت بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم، ان عادات سے یہ ضمانت نہیں ملتی کہ انسان 120 یا 150 سال تک زندہ رہے گا۔

دوسرا راستہ عمر رسیدگی کے بنیادی حیاتیاتی عمل کو سمجھنے اور ان میں مداخلت کے ممکنہ طریقے تلاش کرنے سے متعلق ہے۔ سائنس دان خلیات کی مرمت، جینیاتی عوامل، دوبارہ پیدا ہونے والی ادویات اور عمر سے وابستہ بیماریوں کے علاج پر کام کر رہے ہیں۔

ان شعبوں میں پیش رفت مستقبل میں صحت مند عمر رسیدگی کے امکانات بہتر بنا سکتی ہے، لیکن انسانی عمر کو موجودہ حدود سے بہت آگے بڑھانے کے لیے ابھی مزید تحقیق اور مضبوط سائنسی شواہد درکار ہیں۔

پوٹن کی طویل عمری میں دلچسپی کیوں اہم ہے؟

انسانی عمر بڑھانے کے موضوع میں روسی قیادت کی دلچسپی بھی سامنے آتی رہی ہے۔ ولادیمیر پوٹن نے بائیو ٹیکنالوجی، دوبارہ پیدا ہونے والی ادویات اور اعضاء کی پیوند کاری سمیت ان امکانات پر گفتگو کی ہے جو انسان کو زیادہ عرصے تک صحت مند اور فعال رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

2025 میں بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کو عمر رسیدگی اور انسانوں کے 150 سال تک زندہ رہنے کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ پوٹن نے بعد میں جدید طب اور اعضاء کی پیوند کاری میں پیش رفت کے ممکنہ فوائد کا ذکر کیا۔

یہ گفتگو اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت حکومتیں، طبی ادارے اور نجی شعبہ طویل عمری سے متعلق تحقیق میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم، کسی رہنما کی اس موضوع میں دلچسپی یا مستقبل کے امکانات پر گفتگو کو اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا کہ انسانی عمر میں اتنا بڑا اضافہ سائنسی طور پر ممکن ہو چکا ہے۔

روس کی صحت اور بائیو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری

روس میں صحت کی ٹیکنالوجی، جینیاتی تحقیق اور سیلولر علاج سے متعلق منصوبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، 2024 میں روس نے صحت کے تحفظ کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے متعلق ایک قومی اقدام کا اعلان کیا، جس کا مقصد طبی سہولتوں کو بہتر بنانا اور متوقع عمر میں اضافہ کرنا تھا۔

ان کوششوں میں جینیاتی اور سیلولر علاج سمیت جدید طبی طریقوں پر تحقیق شامل ہے۔ تاہم، اس پروگرام کی لاگت اور اس کے مخصوص اہداف سے متعلق اعدادوشمار کی مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

روس کے کرچاتوف انسٹی ٹیوٹ سمیت مختلف تحقیقی اداروں میں تھری ڈی بائیو پرنٹنگ پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حیاتیاتی مواد اور بافتوں کی تہہ در تہہ تیاری ممکن ہوتی ہے، جس سے مستقبل میں ٹشوز کی مرمت اور اعضاء کی تیاری کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاہم، مکمل طور پر فعال اور پیوند کاری کے قابل انسانی اعضاء کی تیاری اب بھی ایک بڑا سائنسی چیلنج ہے۔ اسی طرح جین تھراپی اور خلیاتی علاج کے ممکنہ فوائد کے ساتھ ان کی حفاظت، مؤثریت اور طویل مدتی نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

کیا انسان کی عمر کی کوئی مقررہ حد ہے؟

انسانی عمر کی زیادہ سے زیادہ حیاتیاتی حد کے بارے میں سائنس دانوں میں بحث جاری ہے۔ اب تک دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ انسان کی عمر کو 150 سال تک بڑھانے کا کوئی ثابت شدہ طبی طریقہ موجود ہے۔

تاریخی طور پر تصدیق شدہ انسانی عمر کا ریکارڈ تقریباً 122 سال ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال کھلا ہے کہ آیا انسانی عمر کی کوئی قطعی حیاتیاتی حد موجود ہے، یا مستقبل میں طبی ترقی اس حد کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

عمر رسیدگی ایک پیچیدہ عمل ہے، جس میں خلیات کو پہنچنے والا نقصان، جینیاتی تبدیلیاں، مدافعتی نظام کی کارکردگی اور متعدد دائمی بیماریوں کا کردار ہوتا ہے۔ کسی ایک عمل کو تبدیل کرنا ضروری نہیں کہ عمر رسیدگی کے تمام اثرات کو روک دے۔

اس کے علاوہ، بعض خلیاتی مداخلتوں کے ساتھ کینسر سمیت دیگر خطرات بھی وابستہ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے لیبارٹری میں حاصل ہونے والے نتائج کو انسانوں کے لیے محفوظ اور مؤثر علاج میں تبدیل کرنے کے لیے طویل اور محتاط تحقیق ضروری ہے۔

طویل عمری کی تحقیق اور معاشی ترجیحات

طویل عمری سے متعلق تحقیق صرف سائنسی امکانات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے معاشی اور اخلاقی پہلو بھی اہم ہیں۔ جب حکومتیں جدید طبی ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کرتی ہیں تو یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ محدود وسائل کو صحت عامہ، احتیاطی علاج، کینسر اور دل کی بیماریوں کے علاج، یا عمر رسیدگی کے بنیادی عمل پر تحقیق کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے۔

روس کے معاملے میں یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کو یوکرین میں جاری جنگ سمیت متعدد معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں طویل مدتی طبی تحقیق کے فوائد اور اخراجات کا جائزہ لینا پالیسی سازوں کے لیے اہم ہوگا۔

دوسری جانب، عمر رسیدگی کی تحقیق سے حاصل ہونے والی کامیابیاں صرف عمر بڑھانے تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ اگر ان کے ذریعے عمر سے متعلق بیماریوں کو مؤخر کیا جا سکے، معذوری کے خطرات کم ہوں اور لوگوں کو زیادہ عرصے تک خودمختار زندگی گزارنے میں مدد ملے تو ان کے وسیع تر سماجی فوائد بھی ہو سکتے ہیں۔

لافانی ہونے کا خواب یا صحت مند زندگی کی حقیقت؟

انسانی عمر کو 150 سال تک بڑھانے کا خیال دل چسپ ضرور ہے، لیکن فی الحال یہ ایک غیر ثابت شدہ امکان ہے۔ جدید طب نے کئی بیماریوں کے علاج اور انسانی متوقع عمر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم عمر رسیدگی کو مکمل طور پر روکنے یا موت پر قابو پانے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں۔

مستقبل میں جینیاتی تحقیق، دوبارہ پیدا ہونے والی ادویات، خلیاتی علاج اور اعضاء کی تیاری میں پیش رفت انسانوں کو زیادہ صحت مند اور طویل زندگی گزارنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ طے کرنا ابھی ممکن نہیں کہ ان کامیابیوں سے انسانی عمر کی زیادہ سے زیادہ حد کتنی بڑھ سکے گی۔

فی الحال سائنس کے لیے سب سے حقیقت پسندانہ ہدف لافانی ہونے کے بجائے صحت مند زندگی کی مدت میں اضافہ ہے۔ اصل کامیابی صرف زیادہ سال جینا نہیں، بلکہ ان برسوں میں جسمانی صحت، ذہنی فعالیت اور زندگی کے معیار کو برقرار رکھنا ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.