جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آن لائن بلیک میلنگ اور تین کمپنیاں؛ کراچی میں کیا سامنے آیا؟

0

نیوز ڈیسک

کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں بچوں سے متعلق مبینہ فحش مواد تیار کرنے، فروخت کرنے اور اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے والے ایک نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 

حکام کے مطابق، گلستانِ جوہر میں کارروائی کے دوران 12 بچوں کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تفتیش کاروں کے مطابق، ایجنسی نے رپورٹ سامنے آنے سے دو روز قبل گلستانِ جوہر کے علاقے میں واقع رابعہ سٹی میں چھاپہ مارا، جہاں مبینہ طور پر بچوں سے متعلق اینیمیٹڈ فحش مواد تیار کیا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ابتدائی طور پر 42 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 13 مشتبہ افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔

این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق، گرفتار افراد پر مبینہ طور پر غیر قانونی مواد تیار کرنے اور اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ تاہم، حراست میں لیے گئے افراد، گرفتار ملزمان اور بازیاب بچوں کی تعداد سے متعلق تفصیلات کی مکمل تصدیق کے لیے سرکاری ریکارڈ درکار ہے۔

جعلی شناختوں کے ذریعے آن لائن کاروبار

تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ مبینہ نیٹ ورک کے ارکان گاہکوں کو راغب کرنے اور غیر قانونی مواد کی خرید و فروخت کے لیے خواتین کی جعلی شناختوں کے ساتھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرتے تھے۔

حکام کے مطابق، بعض گاہک پہلے سے تیار کردہ ویڈیوز خریدتے تھے، جبکہ دیگر اپنی فرمائش کے مطابق مواد تیار کرواتے تھے۔ تفتیش کاروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض خریداروں کو مواد فراہم کرنے کے بعد بلیک میل کیا جاتا تھا۔

ایجنسی مقامی آپریٹرز اور بیرونِ ملک موجود ممکنہ گاہکوں کے درمیان روابط کا سراغ لگانے کے ساتھ ساتھ ان افراد کی شناخت بھی کر رہی ہے جو مبینہ طور پر مواد کی تیاری، خریداری یا تقسیم میں ملوث تھے۔

تین کمپنیوں کی نشاندہی

تفتیش کاروں نے مبینہ نیٹ ورک سے تعلق کے شبہے میں تین کمپنیوں کی نشاندہی کی ہے، جن کے نام آرٹس ڈیزائن (Arts Design)، پکسل کرافٹ (Pixel Craft) اور آرٹ آفس (Art Office) بتائے گئے ہیں۔

Read More: https://urdu.thepenpk.com/?p=10187

عدالت میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق، مبینہ طور پر بچوں کی ویڈیوز کو اینیمیٹڈ مواد میں تبدیل کرکے بیرونِ ملک، بالخصوص امریکا اور جرمنی میں موجود گاہکوں کو فروخت کیا جاتا تھا۔ ان کمپنیوں کے مبینہ کردار اور سرگرمیوں کی مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ

مقدمے کے سلسلے میں دس سے زائد مشتبہ افراد، جن میں اظہر، انفال اور انصار نامی افراد بھی شامل ہیں، کو کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو گلستانِ جوہر کے علاقے رابعہ سٹی سے گرفتار کیا گیا اور تحقیقات آگے بڑھانے کے لیے ان کی مزید تحویل درکار ہے۔ عدالت نے این سی سی آئی اے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

تفتیش کاروں کے مطابق، اس مبینہ نیٹ ورک سے منسلک بعض دیگر مشتبہ افراد تاحال مفرور ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق خدشات

یہ کیس ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کے مبینہ استحصال کی تحقیقات میں درپیش پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ جعلی شناختوں، تبدیل شدہ ویڈیوز، آن لائن ادائیگیوں اور بین الاقوامی روابط کے باعث ایسے نیٹ ورکس کا سراغ لگانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اینیمیٹڈ مواد کی قانونی حیثیت کا تعین اس کی نوعیت اور متعلقہ قوانین کے تحت کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز کے استحصال اور ان کی غیر قانونی تقسیم سے بچوں کے تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تفتیش کاروں کو مبینہ نیٹ ورک میں ہر ملزم کے کردار کا تعین کرنے، ڈیجیٹل مالی لین دین کا سراغ لگانے، الیکٹرانک شواہد محفوظ بنانے اور بیرونِ ملک موجود ممکنہ ملزمان یا سرورز سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مزید تحقیقات کرنا ہوں گی۔

حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے، جبکہ ابتدائی گرفتاریوں، نامزد کمپنیوں اور عدالتی کارروائیوں کے باہمی تعلق کی مکمل وضاحت کے لیے مزید سرکاری معلومات درکار ہیں۔

تفتیش کا اہم مقصد مبینہ نیٹ ورک کی مکمل وسعت کا تعین کرنا، متاثرہ بچوں کا تحفظ یقینی بنانا اور اس بات کا پتا لگانا ہے کہ آیا اس غیر قانونی سرگرمی میں مزید افراد بھی ملوث تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.