تعز میں 700 سے زائد کارروائیاں، 300 حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ

0

نیوز ڈیسک

صنعا: یمن کی سرکاری افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ تعز میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 300 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میزائل حملوں اور سعودی فضائی کارروائیوں کی اطلاعات کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، یمنی سرکاری افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے 700 سے زائد فوجی کارروائیاں کی گئیں۔

ترجمان کے مطابق، ان کارروائیوں میں حوثیوں کے فیلڈ کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں کے اجتماعات، اسلحے کے ذخائر اور رسد کے راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

کرنل النزیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران 300 سے زائد حوثی جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ 68 گاڑیاں یا ہتھیاروں کے نظام تباہ کر دیے گئے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

عدن پر میزائل حملے کی اطلاعات

دوسری جانب، یمنی حکومت نے حوثیوں پر جنوبی بندرگاہی شہر عدن پر بیلسٹک میزائل حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے میزائلوں نے سعودی نگرانی میں قائم ایک بحری اڈے اور ’النصر‘ فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔

یمن کی وزارتِ داخلہ کے مطابق، حملے میں کوسٹ گارڈ کے ہیڈ کوارٹر اور ایک دوسری عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، حملے سے ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

سعودی فضائی حملوں میں 16 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ

ادھر، حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹیلی ویژن چینل ’المسیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ صنعا اور الحدیدہ میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد ہلاک ہوئے۔

چینل کے مطابق، الحدیدہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، ہلاکتوں کی تعداد اور حملوں کی تفصیلات کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سعودی عرب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاعات

دریں اثنا، سعودی سول ڈیفنس نے اطلاع دی ہے کہ میزائلوں کو فضا میں روکنے کے بعد ان کا ملبہ مملکت کے مختلف علاقوں میں گرا۔

حکام کے مطابق، ملبے کے ٹکڑے مکہ کے علاقے وادی المغمس، جدہ کے علاقے النذہہ، طائف کی وادی جلیل اور رابغ کے علاقے مستورہ میں گرے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے مقررہ حفاظتی طریقۂ کار پر عمل کیا گیا۔

یمن میں تازہ فوجی کارروائیاں، عدن پر میزائل حملے اور سعودی عرب میں میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان واقعات نے یمن اور اس کے ہمسایہ علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتِ حال اور تنازع کے مزید پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.