طلبہ کے احتجاج سے ملک گیر تحریک تک، فرانس میں بے چینی کیوں بڑھی؟

0

نیوز ڈیسک

پیرس: بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی مشکلات، تعلیمی نظام سے متعلق خدشات اور سماجی عدم مساوات کے خلاف فرانس میں احتجاج کی ایک نئی لہر نے حکومت کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک بھر میں 700 سے زائد مقامات پر مظاہروں، مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں نے فرانس میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں شرکا کی تعداد کے حوالے سے حکومتی حکام اور مزدور یونینوں کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق سامنے آیا۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے مظاہرین کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار بتائی، جبکہ مزدور یونینوں کے مطابق یہ تعداد 8 لاکھ کے قریب تھی۔ ان اعداد و شمار سے قطع نظر، ملک گیر احتجاج نے واضح کر دیا کہ عوامی ناراضی محض چند مقامی مسائل تک محدود نہیں رہی۔

طلبہ کے احتجاج سے ملک گیر تحریک تک

فرانس میں احتجاج کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے نواحی علاقوں میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں سے ہوا۔ ابتدا میں تعلیمی اداروں کے حالات اور تعلیمی معیار پر توجہ مرکوز تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس تحریک میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات، معاشی عدم تحفظ اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے فرق جیسے مسائل بھی شامل ہو گئے۔

جنوب مشرقی پیرس میں ہونے والا مظاہرہ اس تحریک کا اہم مرکز رہا، جہاں اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک لاکھ 10 ہزار افراد جمع ہوئے۔ مظاہرین نے حکومتی معاشی پالیسیوں اور عوامی مسائل سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ صورتِ حال فرانس کے لیے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا حکومت عوامی ناراضی کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر قابو کر سکتی ہے، یا اسے ان معاشی اور سماجی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی جنہوں نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا؟

احتجاج کے ساتھ تشدد، لوٹ مار اور گرفتاریاں

کئی شہروں میں پرامن مظاہروں کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھی جب نقاب پوش نوجوانوں کے بعض گروہوں کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کی، جبکہ بعض مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور آتش بازی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

فرانسیسی حکام کے مطابق، تشدد اور ہنگامہ آرائی کے واقعات کے سلسلے میں تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پیرس میں مرکزی مظاہرے سے الگ ہونے والے تقریباً 500 نقاب پوش نوجوانوں پر مبینہ طور پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ شہر میں ایک آڈی شوروم کی کھڑکیاں توڑنے سمیت توڑ پھوڑ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر مارسیل میں مظاہرین کے بعض گروہوں نے سڑکیں بند کرنے کے لیے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی اور سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں۔ پولیس نے متعدد دکانوں میں لوٹ مار کی بھی اطلاع دی، جن میں زیورات کی دو دکانیں شامل تھیں۔

لیون، بورڈو، گرینوبل، کلرمونٹ فیرانڈ، لِل، رینز، نانٹس اور ٹولوز سمیت دیگر شہروں میں بھی جھڑپیں ہوئیں، جس سے احتجاج کی ملک گیر نوعیت واضح ہوتی ہے۔

وزیرِ داخلہ لورینٹ نونیز نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ہر مظاہرے میں ایسے گروہ موجود تھے جو تشدد کو ہوا دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کے مطابق، انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں اور مجرمانہ گروہوں نے احتجاج سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جبکہ نیس اور مونٹپیلیئر میں انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کی جانب سے بائیں بازو کے گروہوں سے تصادم کی کوششوں کی اطلاعات بھی ملیں۔

پیرس میں معمولاتِ زندگی متاثر

گزشتہ ہفتے ہونے والی بدامنی کے بعد فرانسیسی حکام نے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے۔ ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ تھے۔

وزیرِ داخلہ نونیز نے کہا کہ حالیہ مظاہروں میں تشدد کی شدت گزشتہ احتجاج کے مقابلے میں کم رہی، جس کی وجہ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کی بہتر پیشگی تیاری کو قرار دیا۔

تاہم، سخت انتظامات کے باعث پیرس کے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے۔ متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کے سامنے لکڑی کے تختے نصب کر دیے، جبکہ 20 سے زائد میٹرو اسٹیشنوں پر سروسز معطل کر دی گئیں۔ لوور میوزیم، میوزی ڈی اورسے اور پیرس اوپیرا سمیت کئی اہم ثقافتی مقامات کی بندش سے سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

کاروباری تنظیموں نے دکانداروں کو مزید توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے خدشات کے پیش نظر دکانیں بند رکھنے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ بعض کاروباری مراکز کو گزشتہ ہفتے ہونے والی بدامنی کے دوران نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

پیرس میں ایک لگژری برانڈ اسٹور کے مینیجر آسکر کے مطابق، گاہکوں کی غیر موجودگی کے باعث دکان کھلی رکھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا۔ دوسری جانب، امریکی شہر نیو اورلینز سے آنے والے سیاح زیویئر ڈولیویل نے دکانوں کے سامنے حفاظتی تختوں اور سیاحتی مقامات تک رسائی کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی۔

یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی بے چینی کے اثرات صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ تجارت، سیاحت، ثقافت اور شہری زندگی بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

معاشی دباؤ اور سماجی عدم مساوات کا سوال

فرانس میں حالیہ احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اس میں مختلف سماجی طبقات کے تحفظات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ طلبہ تعلیمی اداروں کے حالات پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ دیگر شہری مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معاشی مواقع میں عدم مساوات سے پریشان ہیں۔

جب مختلف طبقوں کی شکایات ایک مشترکہ احتجاجی پلیٹ فارم پر جمع ہونے لگیں تو حکومت کے لیے صورتِ حال کو سنبھالنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں صرف پولیس کی نفری بڑھانا یا مظاہروں کے مقامات پر سخت پابندیاں عائد کرنا وقتی طور پر امن قائم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اس سے بنیادی مسائل خود بخود حل نہیں ہوتے۔

حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عوامی بے چینی کن پالیسیوں، معاشی حالات اور سماجی خدشات کے باعث بڑھ رہی ہے۔ اگر ان مسائل کا مؤثر جواب نہ دیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔

یورپ کے دیگر ممالک میں بھی احتجاج

فرانس میں بدامنی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کے دوسرے حصوں میں بھی حکومت مخالف مظاہروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہفتے کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور کالی مرچ کا اسپرے استعمال کیا گیا۔ اٹلی کے متعدد شہروں میں مسلسل دوسرے ہفتے مظاہرے جاری رہے، جبکہ البانیہ میں بھی حکومت مخالف احتجاج کے باعث کشیدگی بڑھی۔

اگرچہ ہر ملک میں احتجاج کے اسباب اور سیاسی حالات مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم یہ پیش رفت مہنگائی، معاشی دباؤ، عوامی اعتماد اور حکومتی جواب دہی سے متعلق وسیع تر خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔

میکرون کے لیے سیاسی چیلنج

فرانس میں احتجاج نے صدر ایمانوئل میکرون پر سیاسی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جن کی موجودہ صدارتی مدت 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔

بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے رہنما ژاں لوک میلینشوں بھی پیرس میں ہونے والے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت عوامی شکایات کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہی تو احتجاج فرانسیسی سیاسی زندگی کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔

میلینشوں کے مطابق، میکرون کے پاس اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا موقع موجود ہے، تاہم مسلسل ہفتہ وار مظاہرے حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاج اب صرف تعلیمی یا معاشی شکایات تک محدود نہیں رہا، بلکہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں اور عوامی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت بھی زیرِ بحث آ گئی ہے۔

فرانس کے سیاسی استحکام کا امتحان

فرانس کی موجودہ صورتِ حال حکومت کے سامنے دو بنیادی چیلنج رکھتی ہے: ایک طرف امن و امان برقرار رکھنا اور دوسری جانب ان شکایات کا ازالہ کرنا جنہوں نے عوام کو احتجاج پر آمادہ کیا ہے۔

سخت سیکیورٹی اقدامات تشدد کو محدود کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن مہنگائی، تعلیمی مسائل، معاشی عدم تحفظ اور سماجی عدم مساوات سے متعلق خدشات کے حل کے لیے سیاسی اور معاشی اقدامات درکار ہوں گے۔

بار بار ہونے والے مظاہروں کے باعث کاروباری سرگرمیوں، سیاحت اور عوامی نقل و حمل کو پہنچنے والا نقصان بھی حکومت کے لیے ایک اضافی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اگر حالات معمول پر نہ آئے تو ان کے معاشی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں فرانس کی صورتِ حال کا رخ بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت عوامی مطالبات کا کیا جواب دیتی ہے اور احتجاجی تحریک اپنے شرکا کو کس حد تک متحرک رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ میکرون انتظامیہ کے لیے اصل امتحان صرف سڑکوں پر امن بحال کرنا نہیں، بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنا اور بڑھتے ہوئے سماجی تناؤ کو کم کرنا بھی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.