اسرائیل میں عرب جماعتیں ’کنگ میکر‘ کیوں بن رہی ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

اسرائیل : اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات کے بعد عرب سیاسی جماعتیں ایک بار پھر ملکی سیاست کے مرکز میں آگئی ہیں۔ 

27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق، عرب قیادت والی جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں مجموعی طور پر 17 سے 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر ان اندازوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ان کی پارلیمانی قوت حکومت سازی کے لیے جاری مذاکرات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ابتدائی نتائج میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور ان کے مخالفین، دونوں کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 

ایسے میں عرب جماعتوں کی حمایت، پارلیمانی تعاون یا کسی ممکنہ حکومت کے خلاف عدم مخالفت اقتدار کے توازن پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تاہم، ان جماعتوں کی نشستوں کی تعداد کے باوجود یہ طے نہیں کہ وہ کسی ایک سیاسی اتحاد کا حصہ بنیں گی یا نہیں۔

یہ صورت حال اسرائیل کی سیاست میں عرب شہریوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ عرب جماعتیں کون ہیں، ان کے سیاسی نظریات میں کیا فرق ہے اور وہ کس طرح حکومت سازی میں فیصلہ کن قوت بن سکتی ہیں۔

اسرائیل کے عرب شہری کون ہیں؟

اسرائیل کی مجموعی آبادی میں عرب شہریوں کا حصہ تقریباً 21 فیصد ہے۔ ان میں بڑی تعداد ان فلسطینیوں کی اولاد پر مشتمل ہے جو 1948 کی جنگ اور اسرائیل کے قیام کے دوران اپنے آبائی علاقوں میں رہ گئے تھے۔ آج یہ شہری اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں اور قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کرتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے افراد اپنی شناخت کے لیے ’اسرائیل کے فلسطینی شہری‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جو ان کے فلسطینی تاریخی ورثے، عربی زبان، ثقافتی وابستگی اور اسرائیلی شہریت کی عکاسی کرتی ہے۔

قانونی طور پر انتخابی عمل میں شریک ہونے کے باوجود عرب شہریوں کو مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سرکاری وسائل کی تقسیم، رہائش، بنیادی سہولتوں، روزگار اور شہری مساوات جیسے معاملات اہم ہیں۔

عرب آبادی مذہبی اور سیاسی اعتبار سے بھی یکساں نہیں۔ اس میں سنی مسلمان، عیسائی، ڈروز اور دیگر برادریاں شامل ہیں، جن کی تاریخی روایات، سماجی تجربات اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔ یہی تنوع عرب ووٹروں کے انتخابی رویے اور سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

چار جماعتیں، دو سیاسی دھارے

اسرائیل میں عرب سیاسی نمائندگی بنیادی طور پر دو انتخابی دھاروں کے گرد منظم ہے۔ ایک جانب حدش (Hadash)، تعال (Ta’al) اور بلد (Balad) سے وابستہ مشترکہ فہرست ہے، جبکہ دوسری جانب منصور عباس کی قیادت میں رعام (Ra’am) الگ انتخابی حکمت عملی کے تحت میدان میں ہے۔

حدش (Hadash) بائیں بازو کی سیاسی تحریک ہے، جس میں عرب اور یہودی دونوں شامل ہیں۔ یہ جماعت سماجی انصاف، مزدوروں کے حقوق، شہری مساوات اور عرب و یہودی شہریوں کے درمیان برابری کی حمایت کرتی ہے۔

تعال (Ta’al)کی قیادت تجربہ کار عرب سیاست دان احمد طیبی کرتے ہیں۔ یہ جماعت پارلیمانی سیاست کے ذریعے فلسطینی قومی حقوق اور عرب شہریوں کے مسائل اجاگر کرتی ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے۔

بلد (Balad) فلسطینی قومی شناخت اور قومی و شہری مساوات پر زور دیتی ہے۔ اس کا سیاسی مؤقف اسرائیل کو ایسی ریاست بنانے کے تصور سے وابستہ ہے جس میں تمام شہریوں کو مساوی قومی حقوق حاصل ہوں، نہ کہ ریاستی شناخت صرف یہودی قومیت سے متعین ہو۔

رعام (Ra’am) کی قیادت منصور عباس کے پاس ہے۔ یہ جماعت پارلیمانی تعاون اور عملی سیاست کے ذریعے عرب برادریوں کے لیے فوائد حاصل کرنے پر توجہ دیتی ہے۔ اس نے ماضی میں حکومتی اتحاد میں شامل ہوکر عرب سیاسی جماعتوں کی روایتی اپوزیشن سیاست سے ہٹ کر ایک مختلف راستہ اختیار کیا تھا۔

ان جماعتوں کے درمیان اختلافات صرف نظریاتی نہیں بلکہ حکومت سازی کی حکمت عملی سے بھی متعلق ہیں۔ رعام نسبتاً عملی اور مذاکرات پر مبنی راستہ اختیار کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، جبکہ مشترکہ فہرست میں شامل جماعتوں کے سیاسی اہداف اور حکومتی تعاون کے حوالے سے تحفظات مختلف ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے یہ ضروری نہیں کہ تمام عرب جماعتیں انتخابی کامیابی کے بعد کسی ایک سیاسی کیمپ کی حمایت پر متفق ہوجائیں۔

مذہبی اور سماجی تنوع ووٹنگ پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

اسرائیل کے عرب ووٹروں کی ترجیحات کو صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر سمجھنا ممکن نہیں۔ قومی شناخت، معاشی حالات، مقامی مسائل، شہری حقوق اور اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات بھی ان کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سنی مسلمان عرب آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ ناصرہ (Nazareth) اور ام الفحم جیسے شہروں اور دیگر عرب آبادیوں میں ان کے ووٹ مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

جنوبی اسرائیل کے علاقے نیگیو (Negev) میں آباد بدوی برادریاں بھی اہم انتخابی حیثیت رکھتی ہیں۔ رعام نے مذہبی قدامت پسند ووٹروں اور بدوی آبادی کے بعض حصوں میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس برادری کے تمام افراد کی سیاسی ترجیحات یکساں نہیں۔

عرب عیسائی برادری کی نمایاں آبادی شمالی اسرائیل اور حیفا جیسے شہروں میں رہتی ہے۔ اس برادری کے بعض ووٹر بائیں بازو اور سیکولر جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دیگر کی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔

ڈروز برادری کا معاملہ بھی الگ نوعیت کا ہے۔ بہت سے ڈروز اپنے عرب ثقافتی اور لسانی ورثے سے وابستگی رکھتے ہیں، لیکن ان کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کی مرکزی سیاسی زندگی میں بھی شامل ہے۔ اسرائیلی قانون کے تحت ڈروز مردوں پر فوجی سروس لازم ہے، جو اس برادری کے ریاست کے ساتھ تعلقات کو دیگر عرب گروہوں سے مختلف بناتی ہے۔ اس کے باوجود ڈروز برادری میں بھی سیاسی خیالات یکساں نہیں۔

یہ تنوع واضح کرتا ہے کہ عرب جماعتوں کی انتخابی کامیابی کا تعلق کسی ایک مذہبی گروہ سے زیادہ وسیع سیاسی اور سماجی عوامل سے ہے۔

اسرائیلی نظام میں عرب ووٹ فیصلہ کن کیوں ہیں؟

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت سیاسی جماعتوں کو قومی ووٹوں میں حاصل کردہ حصے کے تناسب سے پارلیمانی نشستیں ملتی ہیں، بشرطیکہ وہ انتخابی حد عبور کرلیں۔

کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور حکومت کو پارلیمانی اکثریت کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ چونکہ عموماً کوئی ایک جماعت تنہا یہ اکثریت حاصل نہیں کرتی، اس لیے حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور اتحاد ضروری ہوتے ہیں۔

ایسے نظام میں نسبتاً چھوٹی جماعتیں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب بڑے سیاسی اتحاد اکثریت سے محروم رہ جائیں۔

عرب جماعتیں اس سے پہلے بھی اپنی پارلیمانی قوت کا مظاہرہ کرچکی ہیں۔ مشترکہ فہرست نے 2015 کے انتخابات میں 13 اور 2020 میں 15 نشستیں حاصل کی تھیں۔ 2021 میں رعام اسرائیلی حکومتی اتحاد میں شامل ہونے والی پہلی آزاد عرب جماعت بنی، جس سے عرب سیاسی نمائندگی کے حکومتی کردار کے بارے میں بحث کو نئی جہت ملی۔

منصور عباس کی قیادت میں رعام نے پارلیمانی تعاون کے ذریعے عرب برادریوں کے لیے وسائل، بنیادی سہولتوں اور سماجی و معاشی بہتری کے مطالبات کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی۔ اس تجربے نے ظاہر کیا کہ عرب جماعتیں صرف اپوزیشن میں رہنے کے بجائے حکومتی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

تاہم، پارلیمانی نشستوں کا زیادہ ہونا لازماً حکومت میں شمولیت کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ متعلقہ جماعتیں کن شرائط پر تعاون کے لیے تیار ہوتی ہیں اور دیگر سیاسی قوتیں ان شرائط کو کس حد تک قبول کرتی ہیں۔

نیتن یاہو اور اپوزیشن کے لیے مشکل صورت حال

ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق، نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت بنانے کے خواہش مند سیاسی کیمپوں میں سے کوئی بھی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دیا۔

نیتن یاہو عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی تعاون کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کی حمایت پر منحصر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی عرب سیاسی قوتوں کے ساتھ تعاون کا معاملہ اسرائیلی سیاست میں ایک متنازع موضوع رہا۔

دوسری جانب آئزن کوٹ اور ان کے اتحادیوں کے لیے بھی عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کا معاملہ آسان نہیں۔ اپوزیشن کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے سیاسی مؤقف اور ممکنہ اتحادیوں کے مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

فلسطینیوں کے حقوق، اسرائیل کی قومی شناخت، سلامتی کی پالیسی اور عرب شہریوں کے ساتھ ریاستی برتاؤ جیسے معاملات ممکنہ مذاکرات میں اہم رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے یہودی قیادت والی جماعتوں کے اندر بھی مختلف آرا پائی جاسکتی ہیں۔

یوں عرب جماعتوں کی انتخابی کامیابی نے حکومت سازی کے امکانات کو وسیع تو کیا ہے، لیکن ان کے ممکنہ کردار کی حدود بھی واضح کردی ہیں۔

منصور عباس اور رعام کا ممکنہ کردار

منصور عباس کی قیادت میں رعام کی حکمت عملی اس انتخابی صورت حال میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ماضی میں حکومتی اتحاد میں شمولیت کے تجربے کے باعث رعام کے پاس پارلیمانی مذاکرات کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی ایک مثال موجود ہے۔

اگر بڑے سیاسی کیمپ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو رعام کی حمایت کسی ممکنہ اتحاد کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ تاہم، یہ حمایت کن شرائط پر حاصل ہوگی، اس کا انحصار سیاسی مذاکرات، پالیسی وعدوں اور عرب شہریوں کے مسائل پر ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔

دوسری جانب مشترکہ فہرست کی جماعتیں لازماً رعام کی حکمت عملی کی پیروی نہیں کریں گی۔ حدش، تعال اور بلد کے سیاسی مؤقف اور حکومتی تعاون کے بارے میں ترجیحات میں فرق موجود ہے، اس لیے عرب جماعتوں کی مجموعی نشستوں کو ایک متحد سیاسی بلاک کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔

اگر عرب سیاسی رہنما مشترکہ مطالبات پر اتفاق کرلیتے ہیں تو وہ شہری مساوات، عوامی سرمایہ کاری، مقامی ترقی اور عرب آبادیوں کے بنیادی مسائل کے حوالے سے مذاکرات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان کا حقیقی اثر و رسوخ صرف نشستوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی باہمی ہم آہنگی اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کی آمادگی سے بھی متعین ہوگا۔

اب آگے کیا ہوگا؟

ابتدائی ایگزٹ پولز کے بعد اصل توجہ سرکاری نتائج اور حکومت سازی کے آئندہ مرحلے پر مرکوز ہے۔ اسرائیلی نظام کے تحت صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حکومت بنانے کے لیے اس امیدوار کو ذمہ داری سونپیں گے جس کے بارے میں انہیں لگے کہ وہ مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کرسکتا ہے۔

اس امیدوار کو مقررہ مدت کے اندر مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اگر کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہ کرسکا تو حکومت سازی کے لیے مزید کوششیں یا نئے انتخابات کی نوبت آسکتی ہے۔

نیتن یاہو کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت پر انحصار کیے بغیر اکثریت حاصل کرنا ایک اہم سیاسی چیلنج ہے، جبکہ اپوزیشن کے لیے بھی اپنے اختلافات کے باوجود کافی ارکان کی حمایت اکٹھی کرنا ضروری ہوگا۔

اگر کوئی واضح اکثریت سامنے نہ آئی تو اسرائیل کو طویل سیاسی تعطل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس کے دوران نیتن یاہو کی حکومت عبوری حیثیت میں کام جاری رکھ سکتی ہے۔

اس انتخابی صورت حال کا بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ عرب جماعتیں کتنی نشستیں حاصل کرتی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان نشستوں کو عملی سیاسی اثر و رسوخ میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ 

کیا وہ حکومتی اتحاد میں شامل ہوں گی، باہر رہ کر کسی حکومت کی حمایت کریں گی یا اپنے سیاسی مؤقف کے مطابق کسی بھی فریق سے فاصلہ برقرار رکھیں گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے مذاکرات کریں گے۔

اسرائیل میں عرب جماعتوں کا ابھرتا ہوا کردار ایک وسیع تر سیاسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے: انتخابی نمائندگی اور حکومتی اختیار کے درمیان تعلق ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ 

عرب شہریوں کے ووٹ پارلیمنٹ میں اہم تعداد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن اس نمائندگی کو پالیسی تبدیلی، شہری مساوات اور حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی اتحاد، باہمی اتفاق اور دوسرے فریقوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔

حتمی نتائج اور اتحادی مذاکرات ہی یہ طے کریں گے کہ عرب جماعتیں واقعی ’کنگ میکر‘ بن پاتی ہیں یا ان کی انتخابی کامیابی پارلیمانی قوت تک محدود رہتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.