خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا حکم

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا عمل فوری شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے، جہاں حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ کمیشن نے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو انتخابات کے انعقاد کے لیے شیڈول تیار کرنے اور ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ جن اضلاع میں حلقہ بندیوں سمیت تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں، وہاں انتخابی عمل مزید تاخیر کے بغیر آگے بڑھایا جائے۔

تاہم، آئینی و ہنگامی حالات سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے 12 قبائلی اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات ملتوی رہیں گے۔ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر صوبائی انتظامیہ نے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے ان اضلاع کے حوالے سے بھی ہدایت کی ہے جہاں حلقہ بندیوں کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کہ وہاں نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول فوری جاری کیا جائے تاکہ انتخابی تیاریوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

فیصلے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ انتظامی حکام کو انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ جن اضلاع میں حلقہ بندیوں سمیت تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے ہو چکے ہیں، وہاں انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور حلقہ بندیوں کے عمل میں پیش آنے والی انتظامی مشکلات شامل ہیں۔

پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کی چار سالہ مدت مارچ 2026 میں ختم ہوئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں منتخب نمائندوں کی مدت جون 2026 میں مکمل ہوئی۔ مدت مکمل ہونے کے باوجود نئے انتخابات نہ ہونے کے باعث صوبے میں بلدیاتی نظام کو طویل تاخیر کا سامنا ہے۔

صوبائی انتظامیہ نے 12 اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست دیتے ہوئے امن و امان کے خدشات، سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور ہنگامی حالات کا حوالہ دیا تھا۔ کمیشن نے اب اپنے فیصلے میں ان اضلاع میں انتخابی عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے جہاں قانونی اور انتظامی تیاریاں مکمل ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.