نیوز ڈیسک
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، علاقائی سلامتی کے خدشات اور سفارتی حل کی ضرورت نے پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی کو باہمی مشاورت کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ہے۔
تہران میں چاروں ممالک کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے، سفارتی رابطے برقرار رکھنے اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے پر اتفاق کیا گیا۔
پیر کے روز ہونے والے اس اجلاس کی میزبانی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران کے اعلیٰ عسکری، دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، شرکاء میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالین شامل تھے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
چاروں ممالک کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں فوجی کارروائیوں، بڑھتے ہوئے تنازعات اور ممکنہ تصادم کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
اگرچہ ان ممالک کے سیاسی اور تزویراتی مفادات مکمل طور پر یکساں نہیں، تاہم علاقائی استحکام اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے میں ان کی مشترکہ دلچسپی نمایاں ہوئی ہے۔
چاروں ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اس مشاورت کو صرف ایک سفارتی ملاقات کے بجائے خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایران اور سعودی عرب کے تعلقات ماضی میں کئی علاقائی معاملات پر اختلافات کا شکار رہے ہیں، جبکہ ترکی اور پاکستان بھی اپنی الگ خارجہ پالیسی ترجیحات رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود، خطے میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کو پھیلنے سے روکنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کی ضرورت نے ان ممالک کے درمیان رابطوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ چاروں ممالک علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون بڑھانے اور مشاورت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ تاہم، اس اتفاقِ رائے کو کسی باقاعدہ فوجی اتحاد یا مشترکہ دفاعی معاہدے کے قیام کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق، اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کے عوام کے لیے انسانی امداد سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مختلف ممالک کو اپنے سفارتی رابطے تیز کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں علاقائی طاقتوں کے درمیان براہِ راست بات چیت تصادم کے خطرات کم کرنے، غلط فہمیوں سے بچنے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اجلاس کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ابراہیم قالین سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔
صدر پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششیں علاقائی سلامتی، استحکام اور ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایرانی قیادت نے بھی ایسے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا جن کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
سعودی عرب کا سفارتی مؤقف
سعودی عرب نے شہزادہ خالد بن سلمان کے دورۂ تہران کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بات چیت اور امن کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، اس دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنے، فریقین کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستے اختیار کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
ریاض نے قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت پر بھی زور دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے صرف عسکری اقدامات کے بجائے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
پاکستان کا کردار کیوں اہم ہے؟
پاکستان ایران، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اپنے الگ الگ سفارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات رکھتا ہے۔ اس جغرافیائی اور سفارتی حیثیت کے باعث اسلام آباد علاقائی ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
ارنا کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے گزشتہ دورۂ تہران کے دوران علاقائی سیکیورٹی سے متعلق اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس دورے میں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔
بعد ازاں ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ سعودی وزیر دفاع، پاکستان کے آرمی چیف اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ علاقائی سلامتی کے امور پر مشاورت کے لیے تہران میں جمع ہوں گے۔
پاکستان کی جانب سے ایسے رابطوں میں شرکت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ توانائی کی قیمتوں، تجارتی راستوں، علاقائی معیشت اور پاکستان کی سلامتی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
کیا یہ نیا علاقائی اتحاد ہے؟
تہران میں ہونے والے اجلاس کو چاروں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی رابطوں کی ایک اہم مثال قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم اسے باضابطہ علاقائی اتحاد سمجھنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔
چاروں ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی، علاقائی ترجیحات اور مختلف تنازعات پر مؤقف میں فرق موجود ہے۔ اس لیے مشترکہ اعلامیے میں تعاون پر اتفاق کو عملی پالیسی میں تبدیل کرنا ایک اہم چیلنج ہوگا۔
اگر یہ ممالک مسلسل مشاورت، سفارتی رابطوں اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھتے ہیں تو اس سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا وہ بیانات سے آگے بڑھ کر قابلِ عمل اقدامات بھی کرتے ہیں یا نہیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
تہران اجلاس نے پاکستان، ایران، سعودی عرب اور ترکی کو علاقائی سلامتی کے مسائل پر براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف مفادات رکھنے والے ممالک بھی مشترکہ خطرات کے تناظر میں مذاکرات اور تعاون کے لیے گنجائش تلاش کر سکتے ہیں۔
تاہم، یہ ابھی واضح نہیں کہ چاروں ممالک مستقبل میں مشترکہ سفارتی اقدامات، باقاعدہ مشاورتی نظام یا سیکیورٹی تعاون کے کسی مستقل طریقۂ کار پر متفق ہو پائیں گے یا نہیں۔
فی الحال، اس اجلاس کی اہمیت اس بات میں ہے کہ علاقائی کشیدگی کے دوران چار اہم مسلم اکثریتی ممالک نے رابطے برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان رابطوں کے عملی نتائج ہی واضح کریں گے کہ یہ سفارتی قربت خطے کی صورتحال میں کس حد تک تبدیلی لا سکتی ہے۔

[…] حملے کے بعد سعودی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فوجی آپریشن […]