قبائلی عمائدین کا فاٹا کی سابقہ آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: قبائلی عمائدین نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 25ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کی روایات، روایتی قوانین، شناخت اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاٹا قومی جرگہ اور فاٹا گرینڈ الائنس کے نمائندوں نے فاٹا کی نئی کونسل کے قیام کا خیرمقدم کیا، تاہم مطالبہ کیا کہ علاقے کی سابقہ آئینی حیثیت بحال کی جائے۔ انہوں نے ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو موجودہ انتظامی نظام میں فوری طور پر شامل کرنے پر بھی زور دیا۔

قبائلی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام تمام قبائلی برادریوں کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا، جس پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا۔ فاٹا گرینڈ الائنس نے 11 ستمبر سے قبل کی آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 25ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کا اعادہ کیا۔

عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی روایات، روایتی قوانین اور مقامی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے انضمام کے بعد متعارف کرائی گئی انتظامی تبدیلیوں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں سے متعلق فیصلوں میں مقامی عمائدین اور قبائلی برادریوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر ملک شیر محمد خان نے کہا کہ قبائلی قیادت اپنی شناخت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

فاٹا سپریم کونسل کے نمائندوں نے بھی زور دیا کہ قبائلی علاقوں سے متعلق اہم فیصلے تمام متاثرہ قبائل سے مشاورت کے بعد کیے جائیں۔ انہوں نے قبائلی شناخت، حقوق اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

قبائلی عمائدین کے یہ مطالبات فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد نافذ کیے گئے آئینی اور انتظامی نظام کے حوالے سے بعض قبائلی نمائندوں کے تحفظات کی عکاسی کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.