امریکا سے مذاکرات کے لیے ایران کی سات شرائط کیا ہیں؟

0

نیوز ڈیسک

تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کو اپنی سات شرائط کی منظوری سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کیے بغیر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ تہران امریکا کی جانب سے موصول ہونے والے خط کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم کسی بھی سفارتی پیشرفت کے لیے ایران کے پیش کردہ سات نکات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

قالیباف کے مطابق ایران متعدد بار ثالثوں کے ذریعے اپنے مطالبات سے آگاہ کر چکا ہے اور امریکی حکام بھی تہران کے مؤقف سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے یا اسے مراعات کا لالچ دینے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واضح کیا کہ تہران اپنے مؤقف اور مطالبات پر قائم ہے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے بغیر مذاکرات میں کسی پیشرفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے مطالبات میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ تہران اپنے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایسی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے جن کے ذریعے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اس منصوبے پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

عباس عراقچی کے مطابق ایران سفارت کاری کو کامیابی کا ایک اور موقع دینا چاہتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے باوجود امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو اپنی شرائط کی منظوری سے مشروط رکھنا چاہتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.