محبوب عالم حنیف کو سزائے موت، عوامی لیگ کے 3 رہنماؤں کو عمر قید

0

نیوز ڈیسک

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل-2 نے عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری محبوب عالم حنیف کو جولائی 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ضلع کشٹیا میں 6 افراد کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی، جبکہ اسی مقدمے میں پارٹی کے تین دیگر رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جمعرات کو تین رکنی عدالتی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے چاروں رہنماؤں کی نصف غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ اطلاعات کے مطابق، تمام ملزمان مفرور ہیں۔

یہ مقدمہ جولائی اور اگست 2024 میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کشٹیا میں 6 افراد کی ہلاکت سے متعلق ہے۔ استغاثہ نے 5 اکتوبر کو اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے چاروں ملزمان کے لیے سخت ترین سزاؤں کی استدعا کی تھی۔

محبوب عالم حنیف کو سزائے موت سنانے کے علاوہ ٹربیونل نے عوامی لیگ کے ضلعی صدر اور ضلع پریشد کے سابق چیئرمین صدر الدین خان، ضلعی جنرل سیکرٹری اصغر علی اور سٹی جنرل سیکرٹری عطاء الرحمٰن عطا کو عمر قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے حکم دیا کہ ضبط شدہ جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جولائی فاؤنڈیشن یا کسی دوسرے متعلقہ سرکاری ادارے کے ذریعے 2024 کی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمی افراد میں بطور معاوضہ تقسیم کی جائے۔

رہنماؤں پر کیا الزامات عائد کیے گئے؟

استغاثہ کے مطابق، محبوب عالم حنیف پر الزام تھا کہ انہوں نے عوامی لیگ کے اس وقت کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر کے اشتعال انگیز بیانات کی حمایت کی، جن میں مظاہرین کو مجرم اور فرقہ پرست قرار دیا گیا تھا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ان بیانات سے مظاہرین کے خلاف اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا۔

استغاثہ نے مزید الزام لگایا کہ 27 جولائی 2024 کو کشٹیا میں پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران حنیف نے دیگر تین ملزمان کو احتجاجی تحریک دبانے کے لیے طاقت استعمال کرنے کی ہدایت دی اور مظاہرین پر حملوں میں سہولت کاری کی۔

الزامات کے مطابق، 5 اگست 2024 کو ملزمان نے مقامی سیاسی رہنماؤں اور پولیس کی مدد سے نہتے مظاہرین پر فائرنگ میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے پیش کیے گئے استغاثہ کے مؤقف کے مطابق، سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک کو کچلنے کے لیے کی گئی کارروائیوں میں کم از کم 1,400 افراد ہلاک اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

شیخ حسینہ کو بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے

محبوب عالم حنیف اور دیگر رہنماؤں کے خلاف فیصلہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں 2024 کی طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق قانونی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے ایک الگ مقدمے میں شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر سزائے موت سنائی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کو مہلک طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔

کوٹے کے نظام کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے بعد ازاں شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کے خلاف ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ 5 اگست 2024 کو انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد وہ بھارت چلی گئیں، جہاں اطلاعات کے مطابق وہ اب بھی مقیم ہیں۔

تازہ فیصلے کو 2024 کی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد اور کارروائیوں میں کردار ادا کرنے والے عوامی لیگ کے سابق عہدیداروں کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.