نیوز ڈیسک
لاہور: فخر زمان کی شاندار سنچری، سعد بیگ کی عمدہ نصف سنچری اور حسن نواز و عرفات منہاس کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
جمعہ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کا 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس طرح قومی ٹیم نے 9 گیندیں قبل ہی کامیابی سمیٹ لی۔ یہ پاکستان کی اپنی سرزمین پر پہلی سہ فریقی ون ڈے سیریز کی فتح ہے۔
پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے 99 گیندوں پر 127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 11 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی 12ویں سنچری تھی۔ اس دوران انہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں 4 ہزار رنز مکمل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنا کر فخر زمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے شامل تھے۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی پہلی نصف سنچری تھی۔ بعد ازاں حسن نواز نے 50 اور عرفات منہاس نے 61 رنز کی اہم اننگز کھیل کر پاکستان کی فتح یقینی بنائی۔
سری لنکا کی مضبوط بیٹنگ
اس سے قبل پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے جواب میں سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے۔
سری لنکا کی جانب سے کامینڈو مینڈس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 128 گیندوں پر 131 رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ پاون رتھنائیکے نے بھی 65 گیندوں پر 77 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی اہم شراکت قائم کی، جس نے سری لنکا کو بڑے مجموعے تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
سری لنکا کے اوپنرز اویشکا فرنینڈو اور کامینڈو مینڈس نے پہلی وکٹ کے لیے 87 رنز جوڑے۔ فرنینڈو 49 گیندوں پر 38 رنز بنانے کے بعد سلمان علی آغا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، جبکہ کپتان کوشل مینڈس صرف 8 رنز بنا سکے۔
کامینڈو مینڈس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے 107 گیندوں پر اپنی پہلی ون ڈے سنچری مکمل کی۔ دوسری جانب پاون رتھنائیکے نے بھی جارحانہ انداز اپنایا، تاہم دونوں بلے باز اپنی اننگز کو مزید آگے نہ بڑھا سکے۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے کامینڈو مینڈس اور داسن شناکا سمیت 2 وکٹیں حاصل کیں۔ سلمان علی آغا، حارث رؤف اور نسیم شاہ نے بھی 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستانی بولرز نے آخری 10 اوورز میں 6 وکٹیں حاصل کرکے سری لنکا کو 325 رنز تک محدود رکھا۔
پاکستان کی شاندار واپسی
326 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز مایوس کن رہا اور سری لنکن فاسٹ بولر دلشان مدوشنکا نے ابتدائی اوورز میں ہی دو اہم وکٹیں حاصل کر لیں۔
معاذ صداقت 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ بابر اعظم بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ اس طرح پاکستان نے صرف 14 رنز پر 2 وکٹیں گنوا دیں۔
مشکل صورتحال میں فخر زمان اور سعد بیگ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی شراکت قائم کی اور پاکستان کو ابتدائی نقصان سے نکالا۔
سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، تاہم وہ مہیش تھیکشانا کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہوگئے۔
فخر زمان نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور 83 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔ وہ 99 گیندوں پر 127 رنز بنانے کے بعد دلشان مدوشنکا کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
اس وقت پاکستان کا مجموعی اسکور 220 رنز تھا اور اسے فتح کے لیے مزید 106 رنز درکار تھے۔ سلمان علی آغا 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور 230 رنز پر 5 وکٹیں ہو گیا، جس سے سری لنکا کو مقابلے میں واپسی کا موقع ملا۔
تاہم حسن نواز اور عرفات منہاس نے دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے چھٹی وکٹ کے لیے 94 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ عرفات منہاس نے 61 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ حسن نواز نے 50 رنز بنائے۔
عرفات منہاس کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کو کچھ دیر کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم قومی ٹیم نے 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔
فائنل تک پاکستان کا سفر
پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا پر مشتمل سہ فریقی ون ڈے سیریز 18 سے 31 اکتوبر تک جاری رہی۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی تین میچز راولپنڈی میں کھیلے گئے، جبکہ باقی لیگ میچز اور فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئے۔
لیگ مرحلے میں ہر ٹیم نے 4، 4 میچز کھیلے۔ پاکستان نے 3 فتوحات کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سری لنکا دوسرے نمبر پر رہا۔
پاکستان نے ٹورنامنٹ کا آغاز سری لنکا کے خلاف 37 رنز کی کامیابی سے کیا۔ قومی ٹیم نے انگلینڈ کو بھی 87 رنز سے شکست دی، جس میں سلمان علی آغا کی سنچری نے اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب سری لنکا نے انگلینڈ کے خلاف غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 430 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ اس میچ میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 429 رنز بنائے تھے۔
لاہور میں کھیلے گئے ایک اور سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دی۔ اس میچ میں شاداب خان نے سنچری اسکور کی اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ پر اہم شراکت قائم کرکے پاکستان کو یادگار فتح دلائی۔
تاہم 27 اکتوبر کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر پوری ٹیم کو صرف 110 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اس شکست کے باوجود پاکستان پہلے ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا تھا۔
فائنل میں دونوں ٹیمیں ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آئیں، تاہم اس بار پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل 1994 میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ، 2004 میں سری لنکا اور زمبابوے، جبکہ 2025 میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے ساتھ سہ فریقی ون ڈے سیریز کھیل چکا ہے۔ تاہم ان تینوں ٹورنامنٹس میں پاکستان ٹائٹل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
اس طرح قومی ٹیم نے پہلی مرتبہ اپنی سرزمین پر سہ فریقی ون ڈے سیریز جیت کر ملکی کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا۔
