نیوز ڈیسک
اوسلو:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ناروے کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جانے کے بعد ملک کے سیاحتی ادارے نے ایک دلچسپ انداز میں جواب دیتے ہوئے اپنے خوبصورت اور منفرد پبلک ٹوائلٹس کی تشہیری مہم شروع کر دی ہے۔
ناروے کے سیاحتی ادارے ’وزٹ ناروے‘ نے یہ مہم ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں شروع کی ہے جس میں انہوں نے ناروے کو ’شٹ ہاؤس کنٹری‘ قرار دیا تھا۔ سیاحتی ادارے نے امریکی صدر کے طنز کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنے ملک کی سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک انتخابی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ناروے کے لیے توہین آمیز اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ بعض ممالک کے شہریوں کو امریکا میں خوش آمدید کہیں گے، تاہم ناروے کے شہریوں کو نہیں، کیونکہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا۔
اس بیان کے بعد ’وزٹ ناروے‘ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا، ’’کیا یہ دنیا کے بہترین شِٹ ہاؤسز ہیں؟‘‘ مضمون میں ناروے کے مختلف علاقوں میں قائم ایسے پبلک ٹوائلٹس کی تصاویر اور تفصیلات شامل کی گئیں جو منفرد تعمیراتی ڈیزائن اور دلکش قدرتی مناظر کی وجہ سے نمایاں ہیں۔
سیاحتی ادارے نے سوشل میڈیا پر بھی اس مہم کی تشہیر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ناروے کے بارے میں ہونے والی گفتگو سنی ہے اور اب وہ دنیا کو ملک کے خوبصورت ترین اور منفرد ٹوائلٹس دکھانا چاہتے ہیں۔
مہم میں شامل تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ناروے میں پبلک ٹوائلٹس محض بنیادی ضرورت کی سہولت نہیں بلکہ تعمیراتی خوبصورتی اور قدرتی مناظر کا ایک منفرد امتزاج بھی پیش کرتے ہیں۔
تشہیری مہم میں نمایاں مقامات میں سے ایک اسٹگاسٹائن کا پبلک ٹوائلٹ ہے، جو ناروے کے علاقے سوگنے فیورڈ میں ایک بلند مقام پر واقع ہے۔ سیاحتی ادارے کے مطابق، معروف ڈیزائن ویب سائٹ ’ڈیزائن کیوریئل‘ نے اسے دنیا کے 10 بہترین پبلک ٹوائلٹس میں شامل کیا ہے۔
اسی طرح ہیلی لینڈ کے ساحلی علاقے میں واقع یوریڈپلاسن کا لہروں جیسی ساخت والا منفرد ٹوائلٹ بھی اس مہم کا حصہ ہے۔ دیگر نمایاں مقامات میں جزیرہ سینیا پر قائم سنہری رنگ کا ٹوائلٹ اور سوگنے فیورڈ میں شمسی توانائی سے چلنے والی سہولت شامل ہیں۔
ویب سائٹ پر ان تعمیرات کو محض عوامی سہولتیں قرار دینے کے بجائے تعمیراتی شاہکار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سیاحتی ادارے کا کہنا ہے کہ ناروے میں اس نوعیت کے مزید منفرد ٹوائلٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں، جنہیں مستقبل میں اس مہم کا حصہ بنایا جائے گا۔
ادارے کے مطابق، مناسب ڈیزائن اور قدرتی ماحول کے امتزاج سے بظاہر عام اور غیر دلچسپ سمجھی جانے والی سہولت بھی سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ہیٹی، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے لیے بھی اسی نوعیت کے توہین آمیز الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔ ناروے کے حوالے سے ان کے حالیہ بیان کو نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ان کی ناراضی سے جوڑا جا رہا ہے۔
رواں ماہ نوبیل امن انعام جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن نوی پِلے کو دیا گیا تھا۔ تاہم ناروے کی جانب سے متعدد مرتبہ واضح کیا جا چکا ہے کہ نوبیل امن انعام کا فیصلہ حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی کرتی ہے۔
