نیوز ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور اہم شاہراہوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا، جسے صرف 27 روز میں ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔
منصوبے کی تیز رفتار تکمیل کو وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی کاموں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انڈر پاس کے ساتھ تقریباً چار کلومیٹر طویل سڑکوں کا نیٹ ورک بھی تعمیر کیا گیا ہے، جس سے اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور آزاد کشمیر کے درمیان آمدورفت میں سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران وزیراعظم کو منصوبے کی تعمیر، لاگت اور دیگر ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کے تحت علاقے میں 6 ہزار 340 نئے درخت بھی لگائے گئے ہیں، جبکہ کشمیر کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دو خوبصورت مونومنٹس بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کی 27 روز میں تکمیل کو غیر معمولی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ ماضی میں اتنی تیزی سے کوئی منصوبہ مکمل کیا گیا ہو۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے علاقے میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ شبانہ روز محنت، مستعدی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے منصوبے کو آئندہ سال ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کانفرنس اور دیگر اہم تقریبات کے لیے اسلام آباد کی تیاریوں کا عملی مظہر بھی قرار دیا۔
منصوبے کی مالی شفافیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ایک ارب 45 کروڑ روپے کے اس منصوبے کا ٹھیکہ شفاف پروکیورمنٹ نظام اور ای پیڈز کے ذریعے تخمینہ لاگت سے تقریباً ڈھائی فیصد کم قیمت پر دیا گیا۔
انہوں نے منصوبے کی مقررہ مدت سے کم وقت میں تکمیل اور شفافیت کو یقینی بنانے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، کنٹریکٹرز، متعلقہ افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔
کشمیر چوک انڈر پاس کی تکمیل کو اسلام آباد کے بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی اصل کامیابی کا اندازہ آئندہ دنوں میں ٹریفک کی روانی، شہریوں کو ملنے والی سہولت اور سفری وقت میں کمی سے ہوگا۔
