معلوماتی کہانی: نصیحت بنی نجات

والدین نے انھیں سختی سے منع کیا تھا کہ خیمے سے باہر نہ نکلنا۔وہ یہ نصیحت بھول گئے اور جنگل کا جائزہ لینے چل پڑے۔

0

ویب ڈیسک

ایک دن احمد اور ایمن کے والدین نے جنگل میں سیر کا منصوبہ بنایا۔ اگلے دن جنگل پہنچ کر انہوں نے خیمے لگائے اور جنگل کی خوبصورتیوں کا لطف اُٹھایا۔

انہوں نے مختلف پھل دار درخت، خوبصورت پھول اور جانور دیکھے۔ وہاں پر انہیں تیتر، کوئل، فاختہ اور ہُدہُد جیسے جانور بھی دیکھنے کو ملے۔

شام ہونے پر واپسی پر اُنہوں نے خیمے میں واپس لوٹ کر آگ جلا کر کھانا بنایا۔ کھانے کے بعد وہ خیمے میں چلے گئے، لیکن ایمن اور احمد کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ان کا دل جانوروں کو ڈھونڈنے اور دیکھنے کی طرف مائل تھا۔

حالانکہ ان کے والدین نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کہ خیمے سے باہر نہ نکلیں۔ وہ نصیحت بھول گئے اور جنگل کا جائزہ لینے چل پڑے۔

جب انہیں محسوس ہوا کہ وہ کافی دور آ گئے ہیں، تو انہوں نے واپس جانے کی کوشش کی۔ انہیں یاد نہیں آیا کہ وہ کہاں سے آئے تھے، اس لئے انہوں نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر منتظری شروع کی۔ کچھ دیر بعد انہیں روشنی نظر آئی اور انہوں نے ایک جھونپڑی دیکھی۔ پھر اس جھونپڑی تک پہنچنے کا فیصلہ کیا اور اُس جانب چل دیے۔

انہوں نے دروازے پر دستک دی اور تھوڑی دیر بعد ایک بزرگ باہر آئے۔ بچوں نے بزرگ کو سلام کیا اور اپنی مشکل بیان کی۔ بزرگ نے ان سے پوچھا کہ اتنی رات میں یہاں کیسے اور کیوں آئے ہیں۔

ایمن نے بتایا کہ وہ جانور دیکھنے کے لیے خیمے سے باہر نکلے اور راستہ بھٹک گئے۔ بزرگ نے انہیں نصیحت دی کہ امی کے بغیر ایسا  نہیں کرنا چاہیے تھا۔ دونوں نے اپنی غلطی کا اقرار کیا اور بزرگ کی راہنمائی میں والدین کے پاس لوٹ آئے۔ انہوں نے بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور معافی مانگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.