نیوزڈیسک
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جس شدت سے عوام نے پانچ اگست کو عمران خان کی رہائی کے لیے دعائیں کیں، ویسی دعائیں مائیں بھی اپنے بچوں کے لیے نہیں کرتیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پانچ اگست کا احتجاج بھرپور کامیاب رہا، عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور اپنے قائد کے حق میں آواز بلند کی۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے ایک سو سترہ اضلاع، تمام تحصیلوں اور یونین کونسلز میں زبردست احتجاج کیا گیا جس نے واضح کر دیا کہ عوام آج بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی موجودہ حیثیت متنازع ہے کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کا مدتِ ملازمت ختم ہو چکا ہے، اور اب الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشنز غیر قانونی ہیں۔
ان کے مطابق کمیشن کو براہ راست نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار خود کہہ چکے ہیں کہ نااہلی صرف آئین کے مطابق ہی ہو سکتی ہے، اسی لیے پی ٹی آئی ان فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کر رہی ہے، اور اپوزیشن لیڈر کی سیٹ پی ٹی آئی کے پاس ہی رہے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی نااہلی کے فیصلوں کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
ان کی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر قانونی طور پر نااہل قرار دیا، اس لیے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ نو مئی کے واقعات کے بعد الیکشن کمیشن نے شبلی فراز، عمر ایوب سمیت نو ارکانِ پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا تھا۔
ادھر خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تمام تر رکاوٹوں اور جبر کے باوجود پرامن اور تاریخی احتجاج کیا، عوام کا جم غفیر دیکھ کر جعلی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں گرفتاریوں کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہوئے، اور لاہور کے عوام نے شریف خاندان کو ان کا اصل سیاسی مقام دکھا دیا۔
ان کے مطابق شریف خاندان کا سیاسی مستقبل صرف فارم سینتالیس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مظاہروں کی قیادت بخوبی انجام دی، اور اب پارٹی قیادت و کارکنان عمران خان کی اگلی کال کے منتظر ہیں۔
اگر قیادت نے اسلام آباد یا لاہور کی جانب مارچ کا اعلان کیا، تو ہم ایک بار پھر سڑکوں پر نکلیں گے۔
بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف دونوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے عوام کی دعاؤں اور حمایت نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اب بھی اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں، اور تمام غیر قانونی اقدامات کے خلاف قانونی و سیاسی جدوجہد جاری رہے گی