بلوچستان کا مسئلہ؟؟ یا بلوچستان کے ساتھ مسئلہ!!

0

تحریر: محمد غضنفر علوی

بلوچستان کے حالات کئی دہائیوں سے مخدوش ہیں۔ ماضی سے آج تک جب بھی کسی عام یا خاص شخص کا تعارف ملک کے دیگر حصوں میں کروایا جائے تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے: “بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟”

اس سوال کا جواب ہر بلوچستان میں رہنے یا ملازمت کی مدت گزارنے والا اپنی سمجھ اور حالات کے مطابق دیتا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ اصل مسئلہ ہے کیا، اور اس کا حل کہاں ہے؟

چند ماہ قبل ایک اہم ادارے میں انٹرویو کے دوران پہلا سوال یہی تھا: “بلوچستان کے تین بڑے مسائل کیا ہیں؟”
میرا جواب تھا: کرپشن، اسمگلنگ اور فیک گورنمنٹ۔
انٹرویو لینے والے صاحب حیران ہوئے: “یہ تو پہلی بار سنا ہے، مسنگ پرسنز، امن و امان اور بے روزگاری یہ مسائل نہیں؟”
میں نے عرض کیا: یہ مسائل ضرور ہیں، لیکن یہ دراصل اصل بیماری کی شاخیں ہیں، جڑ نہیں۔

کرپشن — جڑ کاٹنے والی کلہاڑی
بلوچستان میں آنے والا پیسہ عوامی بہبود پر خرچ نہیں ہو رہا۔ سڑکیں، نالیاں، اسپتال—سب کی حالت ابتر ہے۔ نوجوان ریاست سے بدظن ہو رہے ہیں، اور دشمن عناصر اس بدظنی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے “محب وطنی” کی آڑ میں کرپشن کو ثواب سمجھ کر کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جنہیں طاقتور حلقوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

اسمگلنگ — فائدہ کس کا، نقصان کس کا؟
بلوچستان کے تاجروں پر بدنامی کا داغ ہے، مگر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کا اصل فائدہ ملک کے دیگر شہروں کے سرمایہ دار اٹھا رہے ہیں۔ بلوچستان میں چند سہولت کار بڑے اسمگلر اور تاجر بن چکے ہیں، جبکہ عام کاروباری اور لیبر طبقہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

مزید پرئیے:  https://urdu.thepenpk.com/?p=6807

فیک گورنمنٹ — نمائندے مگر نمائندگی نہیں
فارم 45 اور 47 کے کھیل نے اسمبلیوں میں ایسے لوگوں کو پہنچا دیا ہے جن کا عوامی ووٹ بینک موجود ہی نہیں۔ وہ صرف پروٹوکول اور کرپشن میں مصروف ہیں۔ جو منتخب نمائندے حقیقی عوامی مینڈیٹ رکھتے بھی ہیں، وہ یا تو الگ تھلگ ہو جاتے ہیں یا خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں

حل — محض نعرے نہیں، عملی اقدامات
پہلا قدم کرپشن پر قابو پانا ہے۔ اس کے لیے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ فنڈز براہِ راست کونسلرز تک پہنچیں تاکہ محلے کی سطح پر مسائل حل ہوں اور عوام کا نظام اور ریاست پر اعتماد بحال ہو۔ موجودہ نظام میں اختیارات ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہیں، جو اکثر علاقے کے مسائل سمجھنے سے پہلے ہی تبدیل ہو جاتے ہیں۔

دوسرا قدم اسمگلنگ کو بارڈر ٹریڈ میں بدلنا ہے۔ اگر سرحدی مارکیٹیں فعال ہوں تو مقامی نوجوان کاروبار میں شامل ہوں گے، روزگار بڑھے گا اور غربت کم ہوگی۔

تیسرا قدم یہ ہے کہ انتخابات سے بننے والی حکومتوں کو مدت پوری کرنے دی جائے۔ جب وہ عوامی توقعات پوری نہ کریں تو عوام خود ان کا احتساب کریں—بغیر اس تاثر کے کہ کسی نے ان کی حکومت گرا دی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پہچانیں: ان حالات میں نقصان کس کا ہو رہا ہے اور فائدہ کس کو؟ ماضی میں اداروں کا فوکس صرف سیکیورٹی پر رہا، مگر حکومتیں ختم ہونے کے بعد کرپشن اور بدانتظامی کی داستانیں سامنے آتی رہیں۔ اگر ہم نے جڑ پر وار نہ کیا تو شاخیں کاٹنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.