نیوزڈیسک
کراچی: محکمہ موسمیات نے کراچی میں اگلے دو روز کے دوران متوقع بارشوں کے حوالے سے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق بھارتی ریاست مغربی اوڑیسہ کے قریب ایک ڈپریشن سسٹم موجود ہے، جو ایک سے ڈیڑھ دن میں بھارتی گجرات پہنچ جائے گا۔
اس کے اثرات تئیس اگست تک سندھ کے بیشتر علاقوں پر رہیں گے، جہاں شدید موسلا دھار بارش متوقع ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ ایک مضبوط بارش کا سسٹم ہے، جس کے دوران کراچی میں بھی بارشیں جاری رہیں گی اور شہر میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے بتایا کہ مون سون سسٹم بحیرہ عرب میں فعال ہے، جس کی وجہ سے شہر میں وقفے وقفے سے بارشیں ہو رہی ہیں۔
آج شہر میں تیز بارش ہوئی اور درجہ حرارت میں کمی آئی، جبکہ کل معتدل بارش کا امکان ہے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ شدید گرج چمک کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلیں اور صرف ایمرجنسی کالز کے لیے فون استعمال کریں۔
سڑک پر موجود افراد کو درخت، باڑ اور کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ آسمانی بجلی کی زد میں آنے والی ہر چیز خطرناک ہے۔
ادھورے ترقیاتی کام بھی بارش کے بعد شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن گئے ہیں۔
لیاقت آباد میں سیوریج لائنیں ڈالنے کے بعد گڑھے بند نہیں کیے گئے، جس میں پانی جمع ہوگیا اور ڈاک خانہ کے قریب کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔
نارتھ ناظم آباد، لنڈی کوتل چورنگی کی سڑک کا ایک حصہ بھی دھنس گیا، جس سے ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز فیلڈ میں موجود رہیں، برساتی پانی کے فوری نکاس کو یقینی بنایا جائے اور الیکٹرک، حیسکو اور سیکپو بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھیں۔ ضلعی انتظامیہ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے سے مسلسل رابطے میں رہے۔