سی این این رپورٹ: ایران پر حملے کے نتائج توقعات کے برعکس، خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ

0

امریکی نشریاتی ادارے CNN کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے کے خطرناک فیصلے کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے ہیں اور اس کے اثرات خطے میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کی صبح ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھے، جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔

انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت کو ایک ہی وقت میں نشانہ بنا کر اس کا مکمل خاتمہ کرنا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا ہو بھی جاتا تو ایران کی نچلی سطح کی قیادت کو فوری طور پر اوپر لا کر نظام کو برقرار رکھا جا سکتا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کو امید تھی کہ اس کارروائی کے بعد ایران میں ایک نئی سیاسی صورتحال پیدا ہوگی اور ممکنہ طور پر بہتر تعلقات کے آغاز کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق صورتحال توقعات کے برعکس ایک نئے مسئلے کی صورت اختیار کر گئی، کیونکہ وہ افراد بھی حملوں میں مارے گئے جنہیں مستقبل میں قیادت کے لیے موزوں سمجھا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ “زیادہ تر وہ لوگ جو ہمارے ذہن میں تھے، مارے جا چکے ہیں”۔

سی این این کے مطابق مجموعی طور پر امریکی اور اسرائیلی قیادت کو ایران پر حملے کے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی انہیں توقع تھی، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.