لندن (ویب ڈیسک): برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی فوجی تعاون کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اسٹارمر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ برطانیہ فی الحال اس مشن کے لیے تیار نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ حکومت متبادل اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے امکانات پر غور کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس وقت جنگی بحری جہاز بھیجنے کے حق میں نہیں، تاہم سمندر میں بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرونز بھیجنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ادھر آسٹریلیا نے بھی امریکی اپیل مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا اس مشن میں بحری جہاز نہیں بھیجے گا۔
کیتھرین کنگ نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار ہے اور جو بحری جہاز آسٹریلیا کے لیے روانہ ہو چکے تھے وہ شیڈول کے مطابق پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پورے ایشیا پیسیفک خطے کی معیشت اور سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔