دریائے سندھ کا پانی آلودہ، تین شہروں میں صحت کا بحران

0

نیوز ڈیسک

دریائے سندھ کے پانی میں زہریلے اور مضرِ صحت اجزا کی مقدار خطرناک حد تک بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد جامشورو، حیدرآباد اور کوٹری کے شہریوں کی صحت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

انجینئر کوٹری بیراج نے اس صورتحال سے متعلق سپرنٹنڈنگ انجینئر بگھیاڑ سرکل حیدرآباد کو خط لکھ دیا ہے، جس میں دریائے سندھ کے پانی میں ٹوٹل ڈِزالوڈ سالڈز (TDS) کی بڑھتی ہوئی مقدار کو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

خط کے مطابق ستمبر میں دریائے سندھ کے پانی میں ٹی ڈی ایس کی مقدار 660 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی تھی، جو یکم اکتوبر کو بڑھ کر 940 ملی گرام فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

حکام نے جامشورو، حیدرآباد اور کوٹری کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پینے کے لیے استعمال نہ کریں، کیونکہ آلودہ پانی کے استعمال سے گردوں، ہیپاٹائٹس، جلد اور معدے کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی صحت کا سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔

انجینئر کوٹری بیراج نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منچھر جھیل اور مٹیاری شوگر مل کا آلودہ پانی دریائے سندھ میں چھوڑنے پر پابندی عائد کی جائے، جبکہ سکھر بیراج سے کوٹری کی جانب فوری طور پر اضافی میٹھا پانی چھوڑا جائے تاکہ دریائے سندھ میں آلودگی کی شدت کم کی جاسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.