نیوز ڈیسک
نیویارک:اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے کائنات میں ذہین خلائی مخلوقات (ایلینز) کے شواہد نہ ملنے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر اس سوال کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے کہ آیا انسان کائنات میں واقعی تنہا ہے؟
ایلون مسک طویل عرصے سے اس بات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ انہیں اب تک کسی خلائی مخلوق، غیر زمینی جہاز یا ایسی سرگرمی کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا جو زمین سے باہر ذہین زندگی کی موجودگی کی تصدیق کر سکے۔
اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ انہیں یہ سوچ کر شدید تشویش ہوتی ہے کہ انسان اب تک ایلینز یا کسی دوسری ذہین تہذیب کے آثار دریافت نہیں کر سکا۔
مسک کے اس بیان نے سائنس کی دنیا کے ایک معروف سوال، یعنی فرمی پیراڈاکس کو دوبارہ زیرِ بحث لا دیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اربوں ستاروں اور سیاروں پر مشتمل ایک وسیع کائنات میں زندگی کے امکانات موجود ہونے کے باوجود اب تک کسی دوسری ذہین تہذیب سے رابطہ کیوں نہیں ہو سکا؟
ایلون مسک کی پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر آپ حقائق اور ریاضی کو سمجھتے ہیں تو پھر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ کائنات میں فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ممکن ہے انسان اور دوسری خلائی مخلوقات کبھی ایک دوسرے تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ طبیعیات کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی آسان نہیں۔ ممکن ہے ایلینز موجود ہوں، لیکن جب تک وہ زمین تک پہنچیں، شاید انسانیت ختم ہو چکی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پہلے ہی زمین پر موجود ہوں، مگر انسان انہیں شناخت کرنے سے قاصر ہو۔
مسک کے بیان نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سائنسی سوال کو اجاگر کیا ہے کہ کیا زمین کائنات میں ذہین زندگی کا واحد مرکز ہے یا انسان ابھی تک اپنے ممکنہ کائناتی ہمسایوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہا ہے؟
