سابق آرمی چیف نے نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے 67 ارکان کی حمایت حاصل کرلی

0

نیوز ڈیسک

اسرائیل میں انتخابی نتائج کے بعد حکومت سازی کی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں سابق آرمی چیف اور نئی سیاسی جماعت ’یشار‘ کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے متبادل قومی حکومت کی تشکیل کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

گادی آئزنکوٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ چار اصلاحاتی جماعتوں پر مشتمل حکومتی اتحاد بنانے کے لیے اتحادیوں سے مشاورت مکمل کر چکے ہیں اور نئی حکومت جلد حلف اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے ان جماعتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں جو طے شدہ بنیادی اصولوں سے اتفاق کرتی ہیں۔

آئزنکوٹ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نیتن یاہو کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں واضح اکثریت نہ ہونے کے باوجود سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنا خطرناک صورت حال ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لیے تقریباً 67 ارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے، جو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب انتخابی نتائج میں 27 نشستیں حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی لیکود پارٹی کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو کو اپنے دیرینہ اتحادیوں کی جانب سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ سخت گیر مذہبی جماعت ’یہودوت ہتوراۃ‘ نے آئندہ حکومت کی تشکیل کے لیے نیتن یاہو کی حمایت میں سفارش کرنے سے گریز کیا ہے۔

ماضی کے پانچ انتخابات میں نیتن یاہو کا ساتھ دینے والی اس سات نشستوں کی حامل جماعت کے فیصلے کو ان کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق اتحادی اب نیتن یاہو کی حمایت کو غیر مشروط رکھنے کے لیے تیار نہیں۔

ادھر عرب جماعتوں پر مشتمل ’جوائنٹ لسٹ‘ اور ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘ نے بھی نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی روکنے کے لیے آئزنکوٹ کو حکومت سازی کی سفارش کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس ممکنہ تعاون پر اپوزیشن کے اندر بھی بعض تحفظات موجود ہیں۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ کی زیرِ صدارت سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی عمل مکمل ہو چکا ہے۔ صدر آئندہ اتوار کو پارلیمانی جماعتوں کی سفارشات کی بنیاد پر اس امیدوار کا اعلان کریں گے جسے نئی حکومت تشکیل دینے کا باضابطہ مینڈیٹ دیا جائے گا۔

اسرائیلی آئینی ضابطوں کے تحت حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو ابتدائی طور پر 28 دن دیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی ممکن ہوگی۔

اس سیاسی تبدیلی پر فلسطینی قیادت کی بھی گہری نظر ہے۔ فلسطینی نائب صدر حسین شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی اسرائیلی حکومت بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے گی اور فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

اسرائیل میں حکومت سازی کی یہ کشمکش نہ صرف نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل بلکہ ملک کی داخلی سیاست اور فلسطین سے متعلق آئندہ پالیسیوں کے حوالے سے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.