بھارتی وزیراعلیٰ کی پاکستان آمد کا امکان، کیا مودی حکومت اجازت دے گی؟

0

نیوز ڈیسک

`لاہور:پاکستان اور بھارتی پنجاب کے درمیان مشترکہ ثقافتی ورثے اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 

پاکستان نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان کو لاہور میں منعقد ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے کی درخواست پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود پنجابی زبان، ادب، صوفی روایت اور سکھ مذہب سے وابستہ تاریخی مقامات عوامی سطح پر مشترکہ ثقافتی تعلقات کی اہمیت اجاگر کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر بھگوت مان پاکستان آنا چاہیں تو حکومت ان کی ویزا درخواست پر غور کرے گی۔

تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے ویزا جاری کرنے پر آمادگی اپنی جگہ، لیکن بھارتی وزیراعلیٰ کو پاکستان جانے کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا اختیار ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان نے 23 اکتوبر کو بتایا تھا کہ انہیں 27 نومبر کو لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔

 انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ دونوں خطوں کے درمیان مشترکہ ثقافت اور زبان کے رشتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاہم انہیں خدشہ تھا کہ بھارتی حکومت شاید پاکستان جانے کی اجازت نہ دے۔

بھگوت مان کے مطابق پنجاب کے دونوں حصوں کی ثقافت ایک جیسی ہے اور بھارتی پنجاب سے بھی کئی شاعر کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان جائیں گے۔

کرتارپور راہداری کھولنے کی خواہش

بھارتی وزیراعلیٰ نے صرف ادبی روابط تک محدود رہنے کے بجائے مذہبی سیاحت کے فروغ کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کرتارپور راہداری دوبارہ کھول دی جائے تو وہ پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان کو اپنے ساتھ گردوارہ دربار صاحب لے جانا چاہیں گے۔

کرتارپور راہداری بھارتی پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گردوارہ دربار صاحب سے ملاتی ہے۔ یہ مقام سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی سے منسوب ہے۔

اس راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزا گردوارے میں حاضری دے کر اسی روز واپس بھارت جا سکتے تھے، تاہم بھارت نے 7 مئی 2025 سے زائرین کی آمدورفت کے لیے یہ راستہ بند کر رکھا ہے۔

یہ اقدام پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی اور پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی آپریشن سندور کے آغاز کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

مذہبی سیاحت کے لیے پاکستان کی آمادگی

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد پاکستان مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے یاتریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 کے دوران بھارتی سکھ اور ہندو یاتریوں کو 9 ہزار سے زائد ویزے جاری کیے، جبکہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں سکھ یاتریوں کو مزید 4 ہزار سے زائد ویزے دیے گئے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان رواں ماہ بابا گرو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں کی ننکانہ صاحب آمد کا منتظر ہے۔

انہوں نے کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے پاکستان کا خصوصی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سہولت کے ذریعے روزانہ 5 ہزار سے زائد افراد گردوارے کی زیارت کرکے اسی روز واپس جا سکتے تھے۔

مشترکہ ورثہ اور مذہبی ہم آہنگی

پاکستانی ترجمان نے 1974 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی مقامات کی زیارت سے متعلق طے پانے والے معاہدے کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہریوں کو مذہبی مقامات تک رسائی اور زیارت میں سہولت فراہم کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان بدھ مت کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکسلا اور تخت بھائی سمیت اہم تاریخی مقامات کی حفاظت کی خاطر خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔

لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں بھگوت مان کی ممکنہ شرکت اور کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کی ان کی خواہش نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ سیاسی سرحدوں کے باوجود دونوں پنجابوں کے درمیان زبان، ادب، مذہب اور تاریخ کے گہرے رشتے موجود ہیں۔ تاہم اس ثقافتی قربت کو عملی روابط میں تبدیل کرنے کا انحصار دونوں ممالک کے سیاسی فیصلوں اور سفارتی حالات پر ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.