امریکی انتخابات کے نتائج: پاکستان کے لیے خوشخبری یا نئی آزمائش؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام اباد: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، جہاں اسلام آباد کو واشنگٹن کے ساتھ حالیہ معاہدوں اور بڑھتے ہوئے تعاون پر ممکنہ پارلیمانی نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

دوسری جانب پاکستانی عوام اس سیاسی تبدیلی سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی قیمتوں اور مہنگائی میں کمی کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کے مضبوط ہونے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سے متعلق پالیسیوں اور اسلام آباد کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی جانچ پڑتال بڑھ سکتی ہے۔

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں امریکا کے ساتھ سیکیورٹی، معدنیات، توانائی اور کرپٹو کرنسی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دی ہے۔ اس کے علاوہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا گیا تھا۔

رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے بعض حالیہ تجارتی منصوبوں کے روابط صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں اور کاروباری حامیوں سے ہیں۔ ان میں ورلڈ لبرٹی فنانشل کی اسٹیبل کوائن USD1، نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی بحالی اور پاورز کمپنی سے ڈرون ٹیکنالوجی کی خریداری کے منصوبے شامل ہیں۔

واشنگٹن کے اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینئیل مارکی اور پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق ان معاہدوں پر ڈیموکریٹس کی قیادت میں کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی سطح پر نئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔

تاہم پاکستان کے لیے امریکی پالیسی میں مکمل تبدیلی کا امکان نہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے ماہر مائیکل کوگل مین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران کے معاملے پر سفارت کاری جیسے امور کو امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، اس لیے ان شعبوں میں پاکستان اور امریکا کا تعاون برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں عوامی سطح پر امریکی انتخابات کے نتائج کو معاشی تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک میں شہریوں کو امید ہے کہ کانگریس میں سیاسی توازن کی تبدیلی سے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر اثر پڑے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.