ایران کی امریکی و اسرائیلی اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

0

تہران (ویب ڈیسک): پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ اقتصادی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے 12ویں روز صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

یہ بیان تہران میں ایک بینک پر مبینہ اسرائیلی حملے کے ردعمل میں سامنے آیا۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارجی نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں اور اقتصادی مراکز پر حملے جاری رہے تو خطے کے دیگر اقتصادی مراکز بھی جوابی کارروائی کا ہدف بن سکتے ہیں۔

انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران شہری یا اقتصادی مراکز میں نہیں چھپا، اور ایسے الزامات ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا جواز ہیں۔ ایران نے اپنے قانون کے تحت امریکی سینٹرل کمانڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی افواج کو پناہ نہ دیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ان امریکی کمپنیوں اور انفراسٹرکچر کی فہرست جاری کی ہے جن کے اسرائیل سے روابط بتائے گئے ہیں اور جن کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان میں Google، Microsoft، Palantir، IBM، Nvidia اور Oracle شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک میں موجود ان کمپنیوں کے کلاؤڈ بیسڈ دفاتر اور انفراسٹرکچر کو ایران نے “نئے اہداف” قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری سے جاری جنگ میں اب تک 1,300 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 10 ہزار شہری مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری براڈکاسٹر نے تہران میں بینک پر حملے کو “غیر قانونی اور غیر معمولی فعل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن بینکوں کو نشانہ بنائے گا تو اس کے معاشی مراکز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.