تل ابیب (ویب ڈیسک): اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کر کے صدر کو ارسال کر دی ہے۔ رائے میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی، اس لیے انہیں معافی دینا ممکن نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو نے اپنی درخواست میں نہ تو مبینہ جرائم کا اعتراف کیا اور نہ ہی پچھتاوے کا اظہار کیا، جو قبل از وقت معافی کے لیے لازمی شرائط سمجھی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور ابھی تک انہیں کسی جرم میں باقاعدہ سزا نہیں دی گئی۔
اسرائیل کی ہائی کورٹ کے مطابق سزا سے پہلے معافی دی جا سکتی ہے، لیکن جرم کا اعتراف لازمی ہے۔ چونکہ وزیراعظم نے اعتراف نہیں کیا، قانونی ماہرین اسے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔
معافی مسترد ہونے کی صورت میں نیتن یاہو کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر برقرار رہنا اور قانونی گرفت سے بچنا مزید مشکل ہو جائے گا۔