اسلام آباد/کراچی: وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو سندھ کا نیا گورنر نامزد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اس سلسلے میں سمری صدر آصف علی زرداری کو حتمی منظوری کے لیے بھجوا دی گئی ہے۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق منگل کو وزیراعظم شہباز شریف سے نہال ہاشمی نے ملاقات کی جس میں انہیں گورنر سندھ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پاکستان) نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کو موجودہ گورنر کامران ٹیسوری کو ہٹانے یا نئے گورنر کی تقرری کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہیں اس پیش رفت کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا۔ ان کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب اسے ایم کیو ایم کی مزید ضرورت نہیں رہی۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی چیئرمین خالد مقبول صدیقی اس معاملے پر پارٹی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے پارٹی کا اصولی مؤقف سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر سندھ کا عہدہ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان حکومت سازی کے وقت ہونے والے معاہدے کا حصہ تھا، اس لیے بغیر مشاورت ایسا فیصلہ کرنا افسوسناک ہے۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے تو یہ ان کا فیصلہ ہو سکتا ہے، تاہم ایم کیو ایم کو نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر سندھ کی تبدیلی کے معاملے پر حکومتی اتحادیوں کے درمیان اختلافات پہلے سے موجود تھے۔ پیپلز پارٹی ماضی میں کامران ٹیسوری کے کردار پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔یاد رہے کہ 2024 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے دیگر جماعتوں کی حمایت سے مرکز میں مخلوط حکومت قائم کی تھی، جس کے تحت مختلف آئینی عہدوں کی تقسیم پر اتفاق کیا گیا تھا۔