آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، ایران کی وارننگ اور بحری حملوں سے عالمی خدشات بڑھ گئے

0

تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اسٹریٹجک آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایرانی قیادت کی سخت وارننگ کے بعد دنیا کی اہم ترین توانائی اور جہاز رانی کی گزرگاہوں میں سے ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ریکارڈ شدہ آڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رکھی جائے گی جب تک مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے بند نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھتا ہے تو ایران امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا۔مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں کا ہدف صرف فوجی تنصیبات ہیں، تاہم حالیہ دشمنیوں میں ہلاک ہونے والوں کا بدلہ لینے کی مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی اصل طاقت اس کے عوام کے اتحاد میں ہے اور تہران خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔دریں اثنا تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی ایک جوہری سرگرمیوں سے منسلک تنصیب پر فضائی حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کے مطابق نشانہ بنائی گئی سائٹ تہران کے قریب تلیگان کمپاؤنڈ میں واقع ہے جہاں جدید دھماکہ خیز مواد کی تیاری اور مبینہ طور پر عماد پروجیکٹ سے متعلق تجربات کیے جا رہے تھے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے کی جاری مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے حالیہ حملوں کے بعد اس مرکز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔سمندر میں بھی کشیدگی کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تھائی لینڈ کا ایک مال بردار جہاز ’’مایوری ناری‘‘ آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے ٹکرا گیا جس کے بعد جہاز کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔ تقریباً 178 میٹر طویل اور 30 ہزار ٹن وزنی یہ جہاز متحدہ عرب امارات کی خلیفہ بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور بھارت کی کانڈلا بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔تھائی بحریہ کے مطابق واقعے کے بعد جہاز کے 20 عملے کے ارکان کو بچا لیا گیا جبکہ تین افراد تاحال لاپتہ ہیں۔میرٹائم سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تھائی لینڈ، جاپان اور مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے والے کم از کم تین بحری جہازوں کو میزائل یا پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ایک جہاز دبئی کے قریب جبکہ دوسرا عمان کے ساحل سے تقریباً 11 ناٹیکل میل دور متاثر ہوا جہاں آگ بھڑک اٹھی تاہم بعد میں اس پر قابو پا لیا گیا۔کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے شہریوں اور بحری کارکنوں کے لیے فوری انتباہ جاری کیا ہے۔ بیان میں الزام لگایا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کے قریب واقع تجارتی بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ایرانی بحریہ نے ایسی بندرگاہوں میں فوجی جہاز اور سازوسامان تعینات کر دیا ہے جو عموماً تجارتی جہاز رانی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کمانڈ نے خبردار کیا کہ اگر شہری بندرگاہیں فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوں تو وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی محفوظ حیثیت کھو سکتی ہیں اور ممکنہ فوجی اہداف بن سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ میزائل حملوں، بحری تعیناتیوں اور آبی گزرگاہ بند کرنے کی دھمکیوں نے اس خطے کو عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے لیے ایک ممکنہ بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.