برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر جنگ کے پہلے دن ہونے والی بمباری میں ایک لڑکیوں کا اسکول بھی براہ راست نشانہ بنا، حالانکہ عمارت پر اسکول ہونے کی واضح علامات موجود تھیں۔رپورٹ کے مطابق نشانہ بننے والا شجرہ طیبہ گرلز اسکول برسوں سے آن لائن موجود تھا اور اس کی ویب سائٹ پر طالبات کی تصاویر اور تعلیمی و کھیلوں کی سرگرمیوں کی درجنوں تصاویر موجود تھیں۔ اس کے علاوہ عمارت کو مقامی کاروباری فہرست میں بھی اسکول کے طور پر درج کیا گیا تھا۔روئٹرز کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت کے قریب کھیل کے میدان کے نشانات اور رنگین دیواریں موجود تھیں جو اسکول ہونے کی واضح علامت تھیں۔ اس کے باوجود اسے میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے بعد امریکی فوج کے اہداف کے انتخاب کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔جنیوا میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی کے مطابق شجرہ طیبہ اسکول کو 28 فروری کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 175 تک پہنچ گئی ہے۔روئٹرز کی تحقیق کے مطابق عمارتوں کے ایک جھرمٹ کو متعدد گولہ بارود سے نشانہ بنایا گیا جن میں کم از کم ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل بھی شامل تھا۔ حملے کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر میں تقریباً 325 میٹر کے علاقے میں کم از کم سات دھماکوں کے نشانات دیکھے گئے جبکہ اسکول کی عمارت کی چھت میں بھی بڑا سوراخ موجود تھا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ممکن ہے ٹوماہاک میزائل ایران کے پاس بھی ہوں، تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی اور نہ ہی کسی امریکی عہدیدار نے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش کیا۔پینٹاگون نے کہا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس نے اسکول کی آن لائن موجودگی، سیٹلائٹ تصاویر یا متعلقہ کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔روئٹرز سے گفتگو کرنے والے دو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے کی ممکنہ وجہ پرانے ہدفی ڈیٹا پر انحصار ہو سکتا ہے۔ریٹائرڈ امریکی میرین افسر اور دفاعی ماہر مارک کینسیئن کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ تنازع کی صورت میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے پاس ممکنہ اہداف کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہدفی فہرستوں کا وقتاً فوقتاً زیادہ باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔