ایران–امریکا جنگ کے انجام سے متعلق چینی پروفیسر کی پیشگوئی سامنے آگئی

0

بیجنگ: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے ممکنہ انجام سے متعلق چین کے معروف پروفیسر شوکن جیانگ نے نئی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو 12 روز گزر چکے ہیں جس کے دوران دونوں فریقین کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سخت بیانات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس حوالے سے چین کے معروف پروفیسر شوکن جیانگ، جنہیں بعض حلقے “چین کا نوسٹراڈیمس” بھی قرار دیتے ہیں، نے پیشگوئی کی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل مقصد صرف ایران کو شکست دینا نہیں بلکہ مارچ 2027 تک ایک مکمل زمینی حملہ کرنا ہو سکتا ہے۔

پروفیسر جیانگ کے مطابق ٹرمپ اس جنگ کو اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو اس جنگ میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ امریکی فوج اکیسویں صدی کی غیر روایتی یا “ایسمیٹرک وارفیئر” کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

انہوں نے تاریخی مثال دیتے ہوئے 415 قبل مسیح کی “سِسیلین مہم” کا حوالہ دیا، جہاں ایتھنز کی طاقتور فوج اپنے مخالفین کو کمزور سمجھنے کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

چینی تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو ٹرمپ ہنگامی جنگی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات مؤخر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر تیسرے صدارتی دور کے لیے راستہ ہموار کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، حالانکہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے تحت ایسا کرنا ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ پروفیسر شوکن جیانگ نے دو سال قبل اپنی یوٹیوب سیریز “پریڈکٹیو ہسٹری” میں “دی ایران ٹریپ” کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی اور ایران کے ساتھ شدید جنگ کے آغاز کی پیشگوئی کی تھی۔

ان کے مطابق اس جنگ کو “جمہوریت کی بحالی” اور “دہشت گردی کے خاتمے” کے نام پر جائز قرار دیا جائے گا، اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کے ابتدائی بیانات میں بھی اسی نوعیت کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.