لاہور (ویب ڈیسک): پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہری اب متبادل ذرائع اختیار کرنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کرانے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
لاہور کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو کم خرچ سفری ذرائع کی طرف مائل کر دیا ہے۔ شہری روایتی پیٹرول موٹر سائیکل کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کروا کر ایندھن کے اخراجات میں نمایاں کمی لا رہے ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے دوران موٹر سائیکل میں الیکٹرک موٹر، کنٹرولر اور بیٹری نصب کی جاتی ہے، جس کے بعد بائیک مکمل طور پر بیٹری پر چلتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک عام موٹر سائیکل کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کرنے پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے، جس میں سب سے مہنگا حصہ بیٹری ہے جو تقریباً 80 ہزار روپے کی ہوتی ہے۔
الیکٹرک بائیک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں نہ پیٹرول کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی موبل آئل استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیوننگ، چین اور اسپراکٹ کی بار بار تبدیلی سے بھی نجات مل جاتی ہے، جس سے دیکھ بھال کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق مکمل چارج کے بعد الیکٹرک بائیک تقریباً 60 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے جبکہ اس کی رفتار بھی 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ بائیک تقریباً بے آواز چلتی ہے، جس سے شور کی آلودگی میں بھی کمی آتی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق نئی الیکٹرک اسکوٹی تقریباً دو لاکھ روپے میں دستیاب ہے، تاہم اس کی بیٹری کی اوسط عمر ایک سے ڈیڑھ سال بتائی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں پرانی موٹر سائیکل کو الیکٹرک بائیک میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی بیٹری تقریباً 6 سال تک چل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں الیکٹرک بائیکس کا استعمال مزید عام ہونے کا امکان ہے۔