خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے پیچھے معدنی دولت؟ فضل الرحمٰن کا سوال

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان اقدامات کا مقصد واقعی دہشت گردی کا خاتمہ ہے یا صوبے کے قیمتی معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت مجوزہ اقدامات کے حق میں ایسی وضاحت پیش نہیں کر سکی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کو مطمئن کر سکے۔ ان کے بقول، صوبے کی سیکیورٹی صورت حال کو بنیاد بنا کر کیے جانے والے فیصلوں کے مقاصد، طریقہ کار اور ممکنہ نتائج واضح ہونا ضروری ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ ارکان کو مجوزہ اقدامات کے پس منظر، وجوہات اور ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے سیاسی اور آئینی مستقبل سے متعلق فیصلے بند کمروں میں کرنے کے بجائے پارلیمانی نگرانی اور مشاورت کے تحت ہونے چاہئیں۔

کیا دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے پیچھے معدنی وسائل کا معاملہ بھی ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن نے خدشہ ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو صوبے کے قدرتی وسائل پر وفاقی کنٹرول بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کی معدنی دولت سے متعلق فیصلوں میں صوبے کے عوام کے حقوق اور مفادات کو کس حد تک تحفظ دیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی تجاویز کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔ ان کے مطابق، محض سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ مجوزہ اقدامات سے کون سے ٹھوس نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، معدنی وسائل پر کنٹرول کے حوالے سے یہ خدشات مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مؤقف اور الزامات کی عکاسی کرتے ہیں؛ ان کے درست یا غلط ہونے کا تعین متعلقہ شواہد اور سرکاری مؤقف کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

\فاٹا انضمام اور صوبائی خودمختاری پر سوالات

مولانا فضل الرحمٰن نے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجاویز کو اس آئینی اور انتظامی تبدیلی کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں انضمام کا عمل 2017 میں شروع ہوا اور 2018 میں آئینی ترمیم کے ذریعے مکمل ہوا۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات جن سے اختیارات دوبارہ وفاق کی طرف منتقل ہونے کا تاثر پیدا ہو، انضمام کے بنیادی مقاصد اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ سیکیورٹی آپریشنز، صوبائی اختیارات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان پر کسی بھی فیصلے سے پہلے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت گورنر راج اور مجوزہ ہنگامی اقدامات کی مخالفت کرتی ہے اور اس معاملے پر حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی کونسل میں بھی شرکت نہیں کرے گی۔

گورنر بننے کی قیاس آرائیوں پر فضل الرحمٰن کا ردعمل

مولانا فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا کا گورنر بننے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایسی بحث کو اپنی جماعت کے سیاسی وقار کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر کا عہدہ حاصل کرنا ان کے سیاسی قد کاٹھ کے مطابق نہیں، اور طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر وہ کسی عہدے کے خواہش مند ہوں تو وہ وزارتِ عظمیٰ ہوگا۔

انہوں نے اس عہدے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بات چیت کی اطلاعات کی بھی تردید کی اور کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف گورنر راج کے نفاذ کے خلاف واضح ہے۔

دو دہائیوں کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر سوال

جے یو آئی کی مجلسِ شوریٰ نے بھی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جماعت کے مطابق، 2001 سے دہشت گردی کے خلاف مختلف اقدامات اور فوجی آپریشنز پر وسیع وسائل خرچ کیے گئے، لیکن ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کا ہدف تاحال مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے ماضی کے فوجی آپریشنز کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ ان کارروائیوں سے کیا حاصل ہوا اور موجودہ حکمت عملی سے کن نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ مستقبل کے فیصلے کرتے وقت سابقہ تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی نئی کارروائی یا غیر معمولی انتظامی اقدام کے مقاصد واضح ہونے چاہئیں اور اس کے ممکنہ سیاسی و سماجی اثرات کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔

جے یو آئی کی مجلسِ شوریٰ کا کہنا ہے کہ مسلسل آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کا برقرار رہنا موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ جماعت نے مجوزہ اقدامات کے ممکنہ سیاسی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ

مولانا فضل الرحمٰن اور جے یو آئی کی مجلسِ شوریٰ کا اہم مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو مجوزہ اقدامات کے اسباب، سیکیورٹی صورت حال اور متوقع نتائج پر بریفنگ دی جائے۔

ان کے مطابق، ارکان پارلیمنٹ کو حکومت کی حکمت عملی کا جائزہ لینے، سوالات اٹھانے اور متبادل تجاویز پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کی پاسداری ضروری ہے۔

فضل الرحمٰن کے نزدیک یہ معاملہ محض گورنر راج کے نفاذ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق جمہوری اختیار، صوبائی خودمختاری اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے بھی ہے۔

سیاسی مداخلت اور آئینی طریقہ کار پر تنقید

جے یو آئی کے سربراہ نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتوں کی تبدیلی اور اقتدار کی منتقلی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری سے متعلق سیاسی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ آیا ماضی میں بھی آئینی طریقہ کار اور سیاسی فیصلوں کے درمیان تضادات سامنے آتے رہے ہیں۔

انہوں نے سیاسی معاملات میں غیر منتخب عناصر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں حلف اٹھاتے ہیں اور انہیں اپنے آئینی فرائض ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق، سیاسی معاملات میں طاقت کے استعمال کے بجائے جمہوری مشاورت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے 2024 کے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے کے اپنی جماعت کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے ذریعے سیاسی تبدیلیاں مسلط کرنے سے پائیدار حل حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

سیاسی بحران کا حل مذاکرات یا طاقت؟

مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے غیر معمولی اقدامات کی وجوہات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے واضح کی جائیں۔ ان کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو صوبائی حقوق، جمہوری نمائندگی اور آئینی حکمرانی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کو اپنے فیصلوں کے لیے قابلِ اعتماد جواز پیش کرنا چاہیے اور کسی بھی پیش رفت سے قبل پارلیمانی مشاورت کو یقینی بنانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز، صوبائی خودمختاری اور معدنی وسائل پر اختیار کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم، ان خدشات اور الزامات پر حکومت کا مؤقف، مجوزہ اقدامات کی قانونی بنیاد اور ان کے عملی نتائج سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ اس معاملے کا جائزہ سیاسی بیانات کے بجائے حقائق اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں لیا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.