نیوز ڈیسک
کراچی: پچیس سالہ میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تفتیش میں سنگین خامیوں، میڈیکو لیگل کارروائیوں میں بے ضابطگیوں اور شواہد کے ممکنہ طور پر دبائے جانے سے متعلق خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی سفارش کر دی ہے۔
کمیشن نے پولیس کی ابتدائی کارروائی کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے اور واقعے کے پہلے دس دنوں کے دوران پولیس افسران کے کردار کی الگ سے تحقیقات کرانے پر زور دیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی قیادت میں مجوزہ جے آئی ٹی میں پولیس کے علاوہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اعلیٰ نمائندے بھی شامل کیے جائیں، تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ اور شواہد پر مبنی جائزہ لیا جا سکے۔
کمیشن کی رپورٹ منگل کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے بعد منظر عام پر آئی۔ رپورٹ 15 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو پیش کی گئی تھی، جس میں پولیس کی تفتیش، طبی شواہد کے تحفظ، پوسٹ مارٹم کے عمل اور متعلقہ حکام کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
خودکشی کا ابتدائی مؤقف اور پوسٹ مارٹم کے نتائج
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان کے اہل خانہ نے اسی روز فیروز آباد پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی اطلاع درج کرائی، جبکہ اگلے دن 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر پولیس اسٹیشن کی حدود سے ملی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا، تاہم اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے لاش پر تشدد کے نشانات کی نشاندہی کی اور تحقیقات کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے۔
کمیشن کے مطابق پولیس نے مکمل اور جامع تحقیقات سے پہلے ہی غیر تصدیق شدہ پیغامات اور منتخب ویڈیو کلپس کی بنیاد پر ابتدائی نتائج اخذ کر لیے تھے۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تنقید کی گئی کہ اہل خانہ کے خدشات اور پولیس سرجن کے مشاہدات سامنے آنے کے باوجود پولیس اپنے ابتدائی مؤقف پر قائم رہی۔
پہلے پوسٹ مارٹم پر اٹھنے والے سوالات کے بعد عدالت نے میت قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا۔ 8 اگست کو کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا گیا کہ میر رضا علی کو پیچھے سے گولی ماری گئی تھی۔
اس کے بعد مقدمے میں قتل اور شواہد ضائع کرنے سے متعلق الزامات بھی شامل کیے گئے۔ کمیشن نے قرار دیا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے نتائج کے باوجود پولیس کا خودکشی کے نظریے پر اصرار کرنا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے تفتیش کی ساکھ متاثر ہوئی۔
عوامی اعتماد کی بحالی پر زور
متاثرہ خاندان کے مطالبے پر کمیشن نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔
مجوزہ ٹیم میں مختلف قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں کی شمولیت کا مقصد تحقیقات کو وسیع کرنا اور دستیاب شواہد، ممکنہ ڈیجیٹل مواد اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جامع جائزہ لینا ہے۔
کمیشن کے مطابق، کیس کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات اور عوامی بے اعتمادی کو دور کرنے کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ اس نے سندھ پولیس کو اپنی تفتیشی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے، عوام سے معافی مانگنے اور ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
تاہم، کمیشن کی سفارشات بذات خود کسی افسر کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں کرتیں۔ اس کے لیے متعلقہ قانونی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا۔
پہلے دس دنوں کی تفتیش پر ایف آئی اے کی زیر قیادت انکوائری
رپورٹ میں کیس کی ازسرنو تحقیقات کے علاوہ ابتدائی دس دنوں کے دوران پولیس افسران کے کردار اور طرزِ عمل کی الگ سے اعلیٰ سطحی انکوائری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
کمیشن نے تجویز دی ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اس انکوائری کی سربراہی کرے اور یہ جائزہ لیا جائے کہ آیا متعلقہ افسران نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) یا 218 کی خلاف ورزی کی تھی۔
ان قانونی دفعات کا تعلق شواہد غائب کرنے یا ضائع کرنے، سرکاری ملازمین کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانونی فرائض کی خلاف ورزی، اور بعض حالات میں غلط ریکارڈ یا رپورٹ تیار کرنے جیسے معاملات سے ہے۔
رپورٹ میں ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر اعلیٰ پولیس افسران نے تفتیش کی سنگین خامیوں کو نظر انداز کیا۔ بعض معاملات میں اہم افراد سے کی گئی پوچھ گچھ کا باقاعدہ ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔
اگرچہ کمیشن اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ حقائق جان بوجھ کر چھپائے گئے تھے، تاہم اس نے ابتدائی تفتیش کے دوران شواہد دبائے جانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق، بعض اہم ٹھوس شواہد کو نقصان پہنچنے یا ان کی حیثیت متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں، جس کے باعث کیس کی مزید تحقیقات میں خصوصی احتیاط اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
میڈیکل بورڈ کی اچانک تبدیلی بھی سوالات کی زد میں
میر رضا علی کی موت کے معاملے میں ایک اہم تنازع میت کو قبر سے نکالنے اور دوبارہ پوسٹ مارٹم لیے قائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کا بھی ہے۔
کمیشن کے مطابق، 6 اگست کو ڈاکٹر سامیہ سعید کی سربراہی میں آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اگلے ہی روز محکمہ صحت سندھ نے اس کی تشکیل تبدیل کرتے ہوئے ارکان کی تعداد پانچ کر دی۔
اس تبدیلی کے باعث میت کو قبر سے نکالنے کا عمل تاخیر کا شکار ہوا، کیونکہ اہل خانہ نے نئے تشکیل شدہ بورڈ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں عوامی دباؤ اور قانونی نوٹسز کے بعد اصل آٹھ رکنی بورڈ بحال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 8 اگست کو میت کو قبر سے نکالنے اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی ممکن ہو سکی۔
کمیشن نے بورڈ میں اچانک تبدیلی کو غیر قانونی اور ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام اس فیصلے کے لیے کوئی معقول جواز پیش نہیں کر سکے۔ رپورٹ میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، بالخصوص سیکرٹری صحت اور اسپیشل سیکرٹری صحت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ معاملہ میڈیکو لیگل کارروائیوں کی خودمختاری اور متنازع اموات کی تحقیقات میں انتظامی مداخلت کے ممکنہ اثرات سے متعلق اہم سوالات سامنے لاتا ہے۔
پندرہ سماعتیں، 49 گواہ
عدالتی کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں، 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور اس مقام کا دورہ بھی کیا جہاں میر رضا علی کی لاش ملی تھی۔
کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش، طبی شواہد کے انتظام، پوسٹ مارٹم کے مراحل، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور سرکاری اہلکاروں کی مبینہ غفلت سمیت کیس کے متعدد پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے نتائج نے اب متعلقہ حکام کے سامنے یہ سوال رکھ دیا ہے کہ آیا تفتیشی خامیاں محض نااہلی اور ضابطہ جاتی کوتاہیوں کا نتیجہ تھیں یا ان کے پیچھے دانستہ بدعملی بھی کارفرما تھی۔
مجوزہ جے آئی ٹی اور ایف آئی اے کی زیر قیادت الگ انکوائری کا مقصد نہ صرف میر رضا علی کی موت کے حالات واضح کرنا ہے بلکہ ابتدائی تحقیقات میں ممکنہ بے ضابطگیوں، شواہد کے تحفظ اور افسران کے احتساب سے متعلق خدشات کا ازالہ بھی ہے۔
تاہم، کیس میں کسی بھی افسر کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین شواہد کی بنیاد پر متعلقہ قانونی کارروائی کے ذریعے ہی کیا جا سکے گا۔ اب اس معاملے میں توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ کمیشن کی سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد کیا جاتا ہے اور آیا نئی تحقیقات میر رضا علی کی موت کے حوالے سے اٹھنے والے بنیادی سوالات کے قابلِ اعتماد جوابات فراہم کر پاتی ہیں۔
