سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش، بھارتی انفلوئنسر کے گھر ایک کروڑ کی چوری

0

نیوز ڈیسک

بھارتی ریاست تمل ناڈو کے شہر کنیاکماری سے تعلق رکھنے والی یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر مدھومیتا کے گھر سے نامعلوم چور مبینہ طور پر تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چوری کرکے فرار ہوگئے۔

مدھومیتا سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہیں اور ان کے فالوورز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ وہ اکثر انسٹاگرام پر اپنی پرتعیش زندگی کی تصاویر اور ریلز شیئر کرتی رہی ہیں، جن میں سونے اور ہیرے کے زیورات کے علاوہ بڑی مقدار میں نقدی بھی دکھائی دیتی ہے۔

پولیس کے مطابق چوری کا واقعہ ناگرکوئل کے علاقے وی آئی پی گارڈن میں پیش آیا، جہاں مدھومیتا اور ان کے اہل خانہ خریداری کے لیے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اسی دوران نامعلوم افراد گھر میں داخل ہوئے اور لاکر میں موجود قیمتی سامان لے کر فرار ہوگئے۔

اہل خانہ کے گھر واپس پہنچنے پر لاکر کھلا ہوا ملا، جبکہ اس میں موجود زیورات اور نقدی غائب تھی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے تحقیقات شروع کردیں اور چوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

پولیس نے تفتیش کے دوران مدھومیتا کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ریلز کا بھی جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ان پوسٹس کے ذریعے چوروں کو گھر، قیمتی اشیا یا اہل خانہ کی نقل و حرکت سے متعلق کوئی معلومات ملی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق مدھومیتا کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں انہیں نقدی دکھاتے ہوئے، جبکہ ایک ویڈیو میں ایک بچے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔

دلچسپ طور پر مدھومیتا نے اپنی ایک پرانی ریل میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنی قیمتی اشیا کی حفاظت کے طریقوں سے واقف ہیں۔ تاہم، حالیہ چوری کے بعد ان کی یہ پرانی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر دوبارہ زیرِ بحث آگئی ہے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس نے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو ملزمان کا سراغ لگانے اور مبینہ طور پر چوری کیے گئے زیورات اور نقدی کی برآمدگی کی کوشش کر رہی ہیں۔

پولیس کی جانب سے تاحال یہ حتمی طور پر نہیں کہا گیا کہ چوروں نے مدھومیتا کی سوشل میڈیا پوسٹس سے معلومات حاصل کرکے واردات کی۔ تاہم، واقعے نے سوشل میڈیا پر قیمتی سامان، گھر اور روزمرہ معمولات سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے ممکنہ سکیورٹی خطرات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.