باجوڑ میں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کا نیا منصوبہ 

0

شاہ خالد شاہ

باجوڑ: باجوڑ میں بارش ہوتی ہے تو چند ہی منٹوں میں ہزاروں لیٹر پانی مکانوں کی چھتوں، گلیوں اور پہاڑی ڈھلوانوں سے بہتا ہوا ندی نالوں میں جا گرتا ہے۔ پھر یہی پانی تیزی سے ضلع سے باہر نکل جاتا ہے، جبکہ چند ماہ بعد یہی علاقے پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ ایک ایسا تضاد ہے جس پر اب باجوڑ میں توجہ دی جا رہی ہے: جس پانی کو برسات میں بوجھ یا سیلابی خطرہ سمجھا جاتا ہے، وہی خشک موسم میں زندگی کی اہم ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اسی سوچ کے تحت ضلعی انتظامیہ نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ عدنان فرید آفریدی نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ سعید اللہ جان کے ہمراہ سول کالونی خار میں اپنے دفتر کی چھت پر نصب روف ٹاپ رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کا افتتاح کیا۔

یہ پہلا ماڈل سسٹم تقریباً 6 لاکھ روپے کی لاگت سے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈویژن باجوڑ کی نگرانی میں مکمل کیا گیا ہے۔

منصوبے کے معائنے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے بارش کے پانی کے تحفظ کو دستیاب آبی وسائل کے بہتر استعمال اور زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

چھت سے زمین کے اندر تک پانی کا سفر

بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا تصور بظاہر سادہ ہے۔ چھت پر گرنے والے پانی کو نالیوں اور پائپوں کے ذریعے جمع کیا جاتا ہے، پھر اسے ٹینک، زیرِ زمین ذخائر، تالاب یا ریچارج کنویں تک پہنچایا جاتا ہے۔

ریچارج سسٹم میں پانی کو فلٹر کرنے کے بعد زمین میں جذب ہونے دیا جاتا ہے تاکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔

باجوڑ جیسے ضلع میں اس طریقے کے کئی فوائد سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سے ایک طرف گھریلو اور سرکاری پانی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے، تو دوسری جانب باغات، زراعت اور مویشیوں کے لیے پانی کا اضافی ذریعہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔

شدید بارش کے دوران پانی کے بہاؤ کو سست کرنے میں بھی ایسے نظام مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

بارش بہت، پانی کم

باجوڑ کی صورتحال میں سب سے نمایاں پہلو یہی تضاد ہے کہ یہاں بارش ہوتی ہے، لیکن کئی آبادیوں کو پینے کے پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بعض علاقوں میں لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کنویں کھودنے یا موجودہ کنوؤں کو مزید گہرا کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی مقامات پر وہ قدرتی چشمے بھی کمزور یا خشک ہو چکے ہیں جو کبھی مقامی آبادیوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ تھے۔

آبادی میں اضافے اور نئے گھروں کی تعمیر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

تحصیل خار کے رہائشی شاہ ولی خان نے حال ہی میں ایک کنال سے زائد رقبے پر گھر تعمیر کیا، مگر ان کے ذہن میں بھی بارش کے پانی کو جمع کرنے کا خیال پہلے نہیں آیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بارش کے پانی کو محفوظ کرکے بعد میں استعمال کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا، لیکن اب ان کے خیال میں پانی کا تحفظ گھریلو منصوبہ بندی کا حصہ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے برسات کے دوران ضائع ہونے والے پانی کو ایک قیمتی وسیلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

جب چشمے خشک ہونے لگیں

محمد ارشاد کے لیے پانی کی قلت کوئی مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔

پہاڑوں کے دامن میں واقع ان کے گھر کے کنویں میں پانی کی سطح نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، جبکہ گاؤں کے قدرتی چشمے بھی خشک ہو گئے ہیں۔ مقامی رہائشی اس صورتحال کو بدلتے ہوئے موسمی حالات سے جوڑتے ہیں۔

اب پورا گاؤں شمسی توانائی سے چلنے والے ایک ہی پانی کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔

یہ انحصار اپنے اندر ایک خطرہ بھی رکھتا ہے۔ اگر نظام میں بڑی خرابی پیدا ہوجائے تو پوری کمیونٹی کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ارشاد کے خیال میں اس مسئلے کا حل صرف گھروں کی چھتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق گاؤں کے اطراف ایسے کئی مقامات موجود ہیں جہاں چھوٹے ڈیم تعمیر کرکے بارش کے پانی کو روکا جا سکتا ہے۔

ایسے ڈھانچے نہ صرف پانی کے بہاؤ کو سست کرسکتے ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ اور زرعی زمین کو پہنچنے والے نقصان کو بھی کم کرسکتے ہیں، جبکہ پانی کو زمین میں جذب ہونے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ مقامات کا سروے کئی برس قبل کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

پہاڑوں میں پانی روکنے کا موقع

باجوڑ کا پہاڑی جغرافیہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ایک اضافی موقع فراہم کرتا ہے۔

موسلا دھار بارش کے دوران پہاڑی ڈھلوانوں سے پانی تیزی سے نیچے آتا ہے، اپنے ساتھ مٹی بہا لے جاتا ہے اور بعض اوقات زرعی زمین کو نقصان پہنچاتا ہے۔

چھوٹے چیک ڈیم، مٹی کے پشتے اور پانی روکنے والے دیگر ڈھانچے اس بہاؤ کی رفتار کم کرسکتے ہیں۔ پانی کو فوراً نیچے بہہ جانے کے بجائے کچھ دیر روک کر زمین میں جذب ہونے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

یوں ایک ہی اقدام سے دو مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں: سیلابی بہاؤ کی شدت میں کمی اور زیرِ زمین پانی کے ریچارج میں اضافہ۔

بڑھتی ہوئی آبادی، زیرِ زمین پانی کے مسلسل اخراج اور بارش کے بدلتے ہوئے انداز کے تناظر میں ریچارج گڑھوں اور کنوؤں کی اہمیت بھی بڑھ سکتی ہے۔

کھیتوں کے لیے بھی پانی کا ذخیرہ

بارش کے پانی کا تحفظ صرف پینے کے پانی تک محدود نہیں۔ زراعت کے لیے بھی یہ ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ میں تقریباً 27 فیصد زرعی اراضی نہروں یا ٹیوب ویلوں سے سیراب ہوتی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں کسان بارش پر انحصار کرتے ہیں۔

کھیتوں کے قریب چھوٹے تالاب خشک موسم میں پانی کا ذخیرہ فراہم کرسکتے ہیں۔ نسبتاً کم لاگت سے بنائے جانے والے مٹی کے تالاب، اگر پلاسٹک کی لائننگ سے مضبوط کیے جائیں، تو بارش کے پانی کو کچھ عرصے تک محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ پانی فصلوں، باغات اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری عمارتوں سے گھروں تک

باجوڑ میں شروع کیا جانے والا ماڈل منصوبہ صرف ایک عمارت تک محدود رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ضلعی انتظامیہ سرکاری عمارتوں، جن میں ریسکیو 1122 کے دفاتر اور تحصیل کمپلیکس شامل ہیں، میں ایسے نظام متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بعد ازاں نجی اسکولوں اور ہسپتالوں میں بھی بارش کے پانی کے تحفظ کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔

یہ اقدام ملک میں پانی کے تحفظ سے متعلق پالیسی سطح پر ہونے والی کوششوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ وفاقی سطح پر بلڈنگ کوڈز میں بارش کے پانی کے تحفظ سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ بعض صوبائی اور مقامی حکومتیں سرکاری اور مخصوص نجی عمارتوں میں ایسے نظام کی حوصلہ افزائی یا تنصیب کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں بھی سرکاری عمارتوں، اسکولوں اور ہسپتالوں میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے نظام کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔

کتنی لاگت، کتنا فائدہ؟

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ باجوڑ کے ایگزیکٹو انجینئر شہزاد خان کے مطابق بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے دو بنیادی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

ایک طریقے میں گھروں کی چھتوں سے پانی جمع کرکے اسے زیرِ زمین ٹینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے طریقے میں پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کو روکنے کے لیے چھوٹے ڈیم یا دیگر ذخیرہ گاہیں تعمیر کی جاتی ہیں۔

شہری علاقوں میں جہاں جگہ محدود ہو، وہاں ڈرم اور چھوٹے ذخیرہ کرنے والے برتن بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

شہزاد خان کے مطابق گھریلو سطح پر بارش کا پانی جمع کرنے والے نظام کی لاگت ڈیزائن اور گنجائش کے لحاظ سے تقریباً 60 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق ابتدائی لاگت کے باوجود ایسے نظام طویل مدت میں پانی کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ایسے نظام نصب کرنے کے خواہش مند شہریوں کو تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

اصل مسئلہ پانی نہیں، اسے محفوظ کرنے کی سوچ ہے

باجوڑ کا مسئلہ صرف پانی کی کمی کا نہیں، بلکہ پانی کو بروقت محفوظ کرنے کے طریقہ کار اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کا بھی ہے۔

کئی دہائیوں سے بارش کا پانی بڑی حد تک ایک ایسے قدرتی بہاؤ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے جو آتا ہے، پہاڑوں سے گزرتا ہے اور ندی نالوں کے راستے غائب ہوجاتا ہے۔

اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

شاہ ولی خان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام لگانے اور اپنے علاقے کے دوسرے لوگوں کو بھی اس جانب راغب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب محمد ارشاد چاہتے ہیں کہ حکومت عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ ایسے پہاڑی مقامات کی نشاندہی کرے جہاں چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جاسکتے ہیں۔

کیا باجوڑ بارش کے پا نی کو محفوظ کر پائے گا؟

باجوڑ میں سوال اب صرف یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بارش میں سے کتنا پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

خار میں ایک سرکاری عمارت کی چھت پر نصب کیا گیا نظام شاید ایک چھوٹا سا آغاز ہو، لیکن اس کے ذریعے ایک بڑے تصور کو آزمایا جا رہا ہے: بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے مستقبل کے لیے محفوظ کیا جائے۔

اگر یہ تصور گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں، کھیتوں اور پہاڑی علاقوں تک پھیلتا ہے تو ہر چھت، ہر تالاب اور ہر چھوٹا ڈیم باجوڑ کے آبی مستقبل میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔

اور شاید پھر بارش کے دنوں میں بہہ جانے والا پانی صرف سیلاب کا خطرہ نہیں ہوگا، بلکہ خشک مہینوں کے لیے محفوظ کی جانے والی ایک نعمت بھی ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.