بدلتی دنیا میں تعلیم کا نیا فارمولا کیا ہے؟

ڈاکٹر اکرام اللہ خان

0

ڈاکٹر اکرام اللہ خان

پشاور : ہماری نسل کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کا مقصد بہت واضح تھا: اچھی ڈگری حاصل کرو، پھر ایک اچھی سرکاری یا نجی ملازمت تلاش کرو اور ایک نسبتاً محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھو۔ 

جب ہم نے دو ہزار کی پہلی دہائی میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو یہی کامیابی کا ایک عام تصور تھا۔ نہ ہمیں اندازہ تھا کہ آنے والے چند برسوں میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی، روزگار اور تعلیم کے طریقوں کو اس قدر بدل دے گی، اور نہ ہی ہم یہ تصور کر سکتے تھے کہ ایک دن گھر بیٹھا شخص دنیا کے کسی بھی حصے سے علم حاصل کرنے اور کام کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

اس وقت اسمارٹ فون عام نہیں تھے، تیز رفتار انٹرنیٹ ہر شخص کی پہنچ میں نہیں تھا اور آن لائن تعلیم ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں تھی۔ آن لائن خرید و فروخت، گھر بیٹھے بیرون ملک کے لیے کام کرنا، آزادانہ پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنا یا سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے کاروبار کرنا بھی عام تصورات نہیں تھے۔ 

مصنوعی ذہانت عام طالب علم کی زندگی سے تقریباً غیر متعلق تھی، جبکہ شمسی توانائی بھی آج کی طرح گھروں اور کاروباروں کے لیے ایک نمایاں متبادل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ ہماری تعلیم بھی اسی دنیا کی ضروریات کے مطابق تھی جس میں ہم رہ رہے تھے۔

صرف دس پندرہ برس میں حالات اس قدر بدل گئے ہیں کہ آج کا طالب علم وہ مواقع دیکھ رہا ہے جن کا ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں تصور بھی مشکل تھا۔ موبائل فون ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، انٹرنیٹ نے جغرافیائی فاصلے کم کر دیے ہیں، آن لائن کاروبار نے خرید و فروخت کے طریقے بدل دیے ہیں، آزادانہ پیشہ ورانہ کام نے مقامی ملازمت کی حدود سے باہر عالمی منڈی تک رسائی پیدا کر دی ہے اور مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق، کاروبار، طب، صنعت اور روزمرہ زندگی میں تیزی سے داخل ہو رہی ہے۔

پاکستان میں بھی اس تبدیلی کی رفتار نمایاں ہے۔ 2024-25 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 57 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی تھی، جبکہ 70 فیصد گھرانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی۔ صرف چند برس پہلے، 2018-19 میں، ملک کی 17 فیصد آبادی گزشتہ تین ماہ کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی۔ 

یعنی مختصر عرصے میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی شرح تین گنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔ یہ تبدیلی اس بات کی واضح مثال ہے کہ معلومات، تعلیم اور روزگار کے ذرائع کتنی تیزی سے ہماری زندگی کا حصہ بن رہے ہیں۔

روزگار کی صورت حال بھی ہماری روایتی تعلیمی سوچ پر غور کرنے کی ضرورت پیدا کرتی ہے۔ 2024-25 میں پاکستان کی مجموعی بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد رہی۔ 

اسی سرکاری سروے کے مطابق ڈگری رکھنے والوں میں بے روزگاری 10.9 فیصد جبکہ ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی رکھنے والوں میں 11.7 فیصد تھی۔ یہ اعداد اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو ختم نہیں کرتے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ صرف ڈگری حاصل کرنا روزگار کی ضمانت نہیں رہا۔

دوسری طرف روزگار اور آمدن کے نئے راستے بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران پاکستان کی معلوماتی ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات کی برآمدات 2.825 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں، جبکہ اسی عرصے میں پاکستان میں مقیم آزاد پیشہ ور افراد نے تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر کی ترسیلات کے ذریعے ملک کے لیے زرمبادلہ پیدا کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل کی معیشت میں کام کرنے کے طریقے روایتی ملازمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی تبدیلی نہیں بلکہ تعلیم کے مقصد اور طریقۂ کار میں بھی تبدیلی ہے۔ آج ایک نوجوان اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی حصے سے علم حاصل کر سکتا ہے، کسی دوسرے ملک کے گاہک کے لیے کام کر سکتا ہے، اپنی مصنوعات عالمی منڈی میں فروخت کر سکتا ہے اور اپنی کسی ایک مہارت کو آمدن کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے مستقبل کی تعلیم کو بھی اسی بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ طب، انجینئرنگ، سائنس، تحقیق، تدریس، قانون اور کئی دوسرے شعبوں میں باقاعدہ اعلیٰ تعلیم کی اہمیت برقرار رہے گی۔ 

تاہم یونیورسٹی مستقبل میں علم حاصل کرنے کا واحد راستہ نہیں رہے گی اور ڈگری بھی کامیابی کا واحد معیار نہیں ہوگی۔ ایک ڈگری کے ساتھ عملی مہارت، تجربہ، تخلیقی سوچ اور نئی ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوگی۔

مستقبل کی تعلیم میں علم کے ساتھ ہنر کی اہمیت مسلسل بڑھے گی۔ کاروبار پڑھنے والے کو کاروبار چلانا بھی آنا چاہیے، معلوماتی ٹیکنالوجی پڑھنے والے کو عملی منصوبے بنانے چاہئیں اور زراعت پڑھنے والے کو جدید ٹیکنالوجی، منڈی اور کاروباری امکانات سے واقف ہونا چاہیے۔ اسی طرح زبان، ابلاغ، اعداد و شمار اور مسئلہ حل کرنے جیسی صلاحیتیں بھی روزگار کے لیے پہلے سے زیادہ اہم ہوں گی۔

ہماری تعلیمی سوچ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے تعلیم کو زیادہ تر ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا۔ بچے کو اسکول بھیجا، پھر کالج، پھر یونیورسٹی، اور آخر میں سوال کیا کہ اب ملازمت کہاں ملے گی؟ مستقبل میں سوال کا رخ بدلنا ہوگا۔ نوجوان سے یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ وہ کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہے، کیا بنا سکتا ہے، کون سی خدمت فراہم کر سکتا ہے اور اپنی صلاحیت سے روزگار کیسے پیدا کر سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اس تبدیلی کو مزید تیز کر رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں بہت سے کام ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ تیزی اور کم وقت میں کیے جا سکیں گے۔ اس کا مطلب انسانی صلاحیت کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی نوعیت میں تبدیلی ہے۔ معلومات یاد رکھنے کے بجائے انہیں سمجھنا، درست سوال پوچھنا، مسائل حل کرنا، تخلیقی سوچ رکھنا اور نئی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا زیادہ اہم ہوگا۔

اس بدلتی ہوئی صورت حال میں ہماری تعلیمی پالیسی کو بھی چند بنیادی تبدیلیوں پر توجہ دینا ہوگی۔ نصاب کو صرف معلومات یاد کرانے کے بجائے عملی مہارت، مسئلہ حل کرنے، تحقیق، تخلیقی سوچ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑنا ہوگا۔ جامعات کو صنعت، کاروبار اور تحقیق کے اداروں کے ساتھ زیادہ مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے تاکہ طلبہ کو صرف نظری علم نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی حاصل ہو۔ نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، آزادانہ پیشہ ورانہ کام، کاروباری صلاحیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہوگا۔

پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑا موقع ہے۔ اگر نوجوانوں کو صرف روایتی ڈگریوں کے حصول تک محدود رکھا گیا تو روزگار کے محدود مواقع پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔ لیکن اگر تعلیم کے ساتھ فنی، تکنیکی، کاروباری اور ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کی بڑی معاشی طاقت بن سکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ انسان نے کتنے سال کسی ادارے میں گزارے، بلکہ یہ ہوگا کہ اس نے زندگی بھر کیا سیکھا، اپنی صلاحیت کو کس طرح بہتر بنایا اور اپنے علم کو عملی فائدے میں کیسے تبدیل کیا۔ ہماری نسل نے تعلیم کو ایک عمارت، ایک کتاب اور ایک ڈگری کے ذریعے دیکھا تھا۔ آنے والی نسل شاید تعلیم کو ایک مسلسل سفر کے طور پر دیکھے گی، جہاں سیکھنے کے مواقع کسی ایک ادارے یا جگہ تک محدود نہیں ہوں گے۔

مستقبل میں ڈگری کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ ڈگری حاصل کرنے والا شخص عملی طور پر کیا کر سکتا ہے۔ شاید آنے والے وقت کی سب سے بڑی تعلیمی تبدیلی یہی ہوگی: ڈگری راستہ دکھائے گی، لیکن مہارت منزل تک پہنچائے گی۔

اس بدلتی ہوئی صورت حال میں ہماری تعلیمی پالیسی کو بھی چند بنیادی تبدیلیوں پر توجہ دینا ہوگی۔ نصاب کو صرف معلومات یاد کرانے کے بجائے عملی مہارت، مسئلہ حل کرنے، تحقیق، تخلیقی سوچ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑنا ہوگا۔ جامعات کو صنعت، کاروبار اور تحقیق کے اداروں کے ساتھ زیادہ مضبوط روابط قائم کرنا ہوں گے تاکہ طلبہ کو صرف نظری علم نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی حاصل ہو۔ نوجوانوں کے لیے فنی تربیت، آزادانہ پیشہ ورانہ کام، کاروباری صلاحیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے مواقع بڑھانا بھی ضروری ہوگا۔

پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے یہ تبدیلی ایک بڑا موقع ہے۔ اگر نوجوانوں کو صرف روایتی ڈگریوں کے حصول تک محدود رکھا گیا تو روزگار کے محدود مواقع پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔ لیکن اگر تعلیم کے ساتھ فنی، تکنیکی، کاروباری اور ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کی بڑی معاشی طاقت بن سکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ انسان نے کتنے سال کسی ادارے میں گزارے، بلکہ یہ ہوگا کہ اس نے زندگی بھر کیا سیکھا، اپنی صلاحیت کو کس طرح بہتر بنایا اور اپنے علم کو عملی فائدے میں کیسے تبدیل کیا۔ ہماری نسل نے تعلیم کو ایک عمارت، ایک کتاب اور ایک ڈگری کے ذریعے دیکھا تھا۔ آنے والی نسل شاید تعلیم کو ایک مسلسل سفر کے طور پر دیکھے گی، جہاں سیکھنے کے مواقع کسی ایک ادارے یا جگہ تک محدود نہیں ہوں گے۔

مستقبل میں ڈگری کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ ڈگری حاصل کرنے والا شخص عملی طور پر کیا کر سکتا ہے۔ شاید آنے والے وقت کی سب سے بڑی تعلیمی تبدیلی یہی ہوگی: ڈگری راستہ دکھائے گی، لیکن مہارت منزل تک پہنچائے گی

Leave A Reply

Your email address will not be published.