عاصم مصطفیٰ اعوان
اسلام آباد: لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے لیے کھانا پکانے کا انتظام چولہے سے نہیں، بلکہ ایندھن کی تلاش سے شروع ہوتا ہے۔
ملک کے کئی علاقوں میں خواتین روزانہ سڑکوں کے کنارے، کھیتوں اور بستیوں کے آس پاس پیدل چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے، فصلوں کی خشک جڑیں یا گوبر کے اُپلے ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ روزمرہ کی ایک معمولی مشقت لگ سکتی ہے، لیکن ان خاندانوں کے لیے یہ محض ایندھن جمع کرنے کا کام نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کی ایک ضرورت ہے۔
اس بوجھ کا وزن صرف ان کے سروں پر نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے غربت، محدود وسائل اور توانائی تک غیر مساوی رسائی کا ایک طویل مسئلہ موجود ہے۔
نسلوں سے بہت سے غریب گھرانے ایسی توانائی کے منتظر رہے ہیں جو صاف بھی ہو، قابلِ اعتماد بھی اور ان کی استطاعت میں بھی ہو۔ جب گیس کی فراہمی غیر یقینی ہو جائے یا متبادل ایندھن خریدنا گھر کے بجٹ سے باہر ہو، تو زمین سے ملنے والی لکڑی، فصلوں کی باقیات اور گوبر کے اُپلے ہی آخری سہارا بن جاتے ہیں۔
خواتین یہ ایندھن جمع کرتی ہیں، اسے اپنے گھروں تک لے جاتی ہیں اور پھر اسی سے کھانا تیار ہوتا ہے۔
ایک چولہا جلتا ہے۔
ایک گھر میں کھانا پکتا ہے۔
ایک خاندان اپنا پیٹ بھرتا ہے۔
اور زندگی کا ایک اور دن گزر جاتا ہے۔
پاکستان میں غربت کے اعدادوشمار اس جدوجہد کی وسعت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی بینک کی کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے غربت کی تازہ ترین بین الاقوامی حد کے مطابق، 2024 میں پاکستان کی 47.1 فیصد آبادی یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ مالی سال 2025 کے لیے یہ شرح 45 فیصد متوقع کی گئی تھی۔
لیکن اعدادوشمار کے پیچھے انسانوں کی زندگیاں ہوتی ہیں۔
یہ خواتین صرف غربت کے کسی گراف کا حصہ نہیں۔ یہ مائیں ہیں، بیٹیاں ہیں اور محنت کش ہیں، جو اپنے خاندانوں کے لیے روزانہ وہ کام کرتی ہیں جس کے بغیر شاید گھر کا چولہا نہ جل سکے۔
توانائی کی کمی کا مسئلہ صرف اس بات تک محدود نہیں کہ کسی گھر میں گیس آ رہی ہے یا نہیں۔ یہ وقت، صحت، محنت، آمدنی اور زندگی کے معیار سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب ایک عورت کو کھانا پکانے سے پہلے ایندھن جمع کرنے میں گھنٹوں صرف کرنے پڑیں، تو اس مشقت کی قیمت صرف جسمانی تھکن نہیں ہوتی۔ اس میں وہ وقت بھی شامل ہوتا ہے جو تعلیم، روزگار، بچوں کی دیکھ بھال یا آرام کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔
ترقی کو صرف نئی سڑکوں، بلند عمارتوں یا معاشی اعدادوشمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔
ترقی اس وقت بھی دکھائی دینی چاہیے جب ایک غریب گھرانے کی عورت کو کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کے لیے میلوں پیدل نہ چلنا پڑے۔ جب ایندھن گھر کے دروازے تک دستیاب ہو، محفوظ ہو اور خاندان کی استطاعت میں ہو۔ اور جب ایک عورت کے لیے گھر کا چولہا جلانا اپنی جسمانی طاقت کا امتحان نہ رہے۔
کیونکہ حقیقی ترقی شاید یہی ہے کہ ایک دن وہ بوجھ، جو نسلوں سے خواتین اپنے سروں پر اٹھاتی آئی ہیں، ان کے سروں سے اتر جائے۔
فوٹو کریڈٹ: اے پی پی
