نیوز ڈیسک
البرٹا: کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع فوجی اڈے سی ایف بی وین رائٹ میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کے نتیجے میں شدید آتشزدگی ہوئی، جس کے باعث متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔
حکام نے تاحال ہلاکتوں اور زخمیوں کی درست تعداد جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی وجوہات بھی فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے، 17 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں فوجی اڈے پر پیش آنے والے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
کینیڈا کے وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ افسوس ناک خبر دیتے ہوئے دکھ ہے کہ اس واقعے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے الگ بیان میں واقعے سے متاثر ہونے والے فوجی اہلکاروں اور دیگر افراد سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر ہمدردیاں متاثرہ مردوں اور خواتین کے ساتھ ہیں۔
یہ واقعہ البرٹا کے قصبے وین رائٹ کے قریب واقع فوجی تنصیب میں پیش آیا، جو صوبائی دارالحکومت ایڈمنٹن سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے آتشزدگی کو ایک بڑا اور افسوس ناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت صورت حال سے نمٹنے کے لیے کینیڈا کی وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پوئیلیورے نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم مارک کارنی اور وزیر دفاع سے رابطہ کرکے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
پیئر پوئیلیورے نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں عوام سے وین رائٹ کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے علاقے میں موجود افراد پر زور دیا کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں، مقامی ہنگامی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور امدادی کارکنوں کی رسائی ممکن بنانے کے لیے سڑکیں خالی رکھیں۔
فوجی اڈے پر آتشزدگی کی وجوہات، ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور واقعے سے متعلق دیگر تفصیلات تاحال غیر واضح ہیں۔ حکام کی جانب سے مزید معلومات جاری کیے جانے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
