نیوز ڈیسک
تہران: آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی رات میں سات آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے، متعدد جہازوں میں آگ لگنے اور بعض کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہونے کی اطلاعات نے عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں رپورٹ ہوئے ہیں جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی بحریہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک ہی رات میں سات آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچا۔ رپورٹس کے مطابق، چار جہازوں میں آگ لگ گئی، جبکہ تین دیگر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہو گئے۔ تاہم، ان واقعات اور متاثرہ جہازوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) سے منسوب ایک رپورٹ کے مطابق، خام تیل سے لدے دو ٹینکر، جن میں مجموعی طور پر 45 لاکھ بیرل سے زائد تیل موجود تھا، ایک ایسے جنوبی بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ اطلاعات میں انجن رومز میں دھماکوں اور شدید آگ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔
ایرانی ذرائع نے ایک تیسرے بڑے آئل ٹینکر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کے دوران اس کے انجن روم میں دھماکا ہوا اور جہاز میں آگ لگ گئی۔
جہازوں کے شناختی نظام بند کرنے کا الزام
ایران کی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ نے الزام لگایا ہے کہ متاثرہ جہازوں میں سے بعض نے اپنے شناختی، ٹریکنگ اور نیویگیشن سسٹمز بند کر رکھے تھے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس سے گزرتے ہوئے ان نظاموں کو بند کرنے والے جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
تاحال تمام متاثرہ جہازوں کے نام، ان کے پرچم بردار ممالک، نقصان کی نوعیت اور عملے کی ممکنہ ہلاکتوں یا زخمی ہونے سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ آیا تمام واقعات میں سمندری بارودی سرنگیں ملوث تھیں یا جہازوں کو نقصان پہنچنے کی دیگر وجوہات بھی تھیں۔
Read More: https://urdu.thepenpk.com/?p=10588
ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث واقعات کی مکمل نوعیت اور ان کے ممکنہ اثرات کا تعین کرنا قبل از وقت ہوگا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک تنگ مگر انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی توانائی پیدا کرنے والے ممالک سے تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل میں اس راستے کا مرکزی کردار ہے۔
عام حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کھپت کے مساوی مقدار اس آبنائے سے گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں جہاز رانی میں طویل تعطل نہ صرف تیل کی عالمی فراہمی بلکہ قدرتی گیس کی ترسیل، بحری مال برداری، انشورنس اور بین الاقوامی تجارت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
سمندری بارودی سرنگوں، حملوں یا ٹینکروں میں آگ لگنے کی اطلاعات کی تصدیق نہ ہونے کے باوجود ایسی خبروں سے شپنگ کمپنیوں اور توانائی کے تاجروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ جہازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے تو سفر کا دورانیہ اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی اور بحری سلامتی
آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ اطلاعات ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے وسیع تر تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق، 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں دشمنی میں اضافہ ہوا، جس کے اثرات بحری آمدورفت پر بھی پڑے۔
سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے مذاکرات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم فراہم کردہ تفصیلات سے کسی حتمی معاہدے یا تنازع کے حل کی تصدیق نہیں ہوتی۔
رپورٹس میں 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی اور اسے مصدقہ پیش رفت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
اگر ٹینکروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعات جاری تنازع کے دوران تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات میں اضافے کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر ممکنہ اثرات
آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹ یا جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ اگر شپنگ کمپنیوں کو اس راستے سے گزرنے میں اضافی خطرات کا سامنا ہو تو وہ متبادل راستوں، اضافی سکیورٹی انتظامات یا سفر میں تاخیر پر غور کر سکتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں انشورنس پریمیم، مال برداری کے کرایوں اور ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں اس کے اثرات ایندھن کی قیمتوں، نقل و حمل اور پیداواری لاگت تک منتقل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
تاہم، ان ممکنہ اثرات کی شدت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاعات کس حد تک درست ثابت ہوتی ہیں، بحری آمدورفت کتنی دیر متاثر رہتی ہے اور متبادل سپلائی راستے کس حد تک دستیاب ہوتے ہیں۔
فی الحال متاثرہ جہازوں کی شناخت، واقعات کی اصل وجوہات، ممکنہ جانی نقصان اور سمندری بارودی سرنگوں کے کردار سے متعلق اہم سوالات جواب طلب ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت پر عالمی توجہ برقرار ہے، کیونکہ اس اہم بحری راستے میں کسی بڑے یا طویل تعطل کے اثرات مشرق وسطیٰ تک محدود رہنے کے بجائے عالمی توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور تیل کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔
