اسرائیل ہیبرون میں فلسطینیوں کے گھر کیوں مسمار کر رہا ہے؟

1

نیوز ڈیسک

ہیبرون: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ متعدد رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ان اقدامات کو سیکیورٹی آپریشن کا حصہ قرار دیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں فلسطینی خاندانوں کو زبردستی بے گھر کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق، جمعے کو ہیبرون میں ایک فوجی چوکی پر دو مسلح فلسطینیوں کی فائرنگ سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حکام نے واقعے کو سنگین سیکیورٹی حملہ قرار دیتے ہوئے شہر اور اس کے گردونواح میں اضافی فوجی اقدامات نافذ کر دیے۔ حکام کے مطابق، دونوں حملہ آوروں کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

واقعے کے بعد ہیبرون کے مختلف علاقوں اور قریبی قصبے حلول میں نقل و حرکت محدود کر دی گئی، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں شروع کی گئیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حملے میں ملوث افراد کے ممکنہ ساتھیوں اور اسلحے کی تلاش کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

تاہم، فوجی کارروائی کے ساتھ فلسطینی آبادیوں میں مکانات کی مسماری اور رہائشیوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے جانے نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا یہ اقدامات محض سیکیورٹی کارروائی تک محدود رہیں گے یا ان کے نتیجے میں فلسطینی خاندانوں کی وسیع پیمانے پر بے دخلی بھی ہو سکتی ہے؟

فرش الحوا میں مکانات کی مسماری کیوں؟

اسرائیلی فورسز نے ہیبرون کے علاقے فرش الحوا میں عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کیا ہے اور رہائشیوں کو اپنی جائیدادیں خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ نشانہ بنائے جانے والے بعض ڈھانچے غیر قانونی ہیں اور ان سے سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فوج حملہ آوروں سے منسلک علاقے کو بنیادی طور پر تبدیل کرے گی۔ ان کے مطابق، گھروں کی تلاشی لی جائے گی اور کارروائیوں کے دوران ملنے والے ہتھیاروں یا عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔

تاہم، مکانات کی مسماری اور انخلا کے احکامات کے اثرات براہِ راست ان فلسطینی خاندانوں پر پڑ رہے ہیں جو ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے لیے یہ صورتحال نہ صرف رہائش کے تحفظ بلکہ روزمرہ زندگی، نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات تک رسائی کے حوالے سے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی حاصل کردہ فوٹیج کے مطابق، ایک اسرائیلی فوجی نے مبینہ طور پر ایک عمارت کے رہائشیوں کو اسے خالی کرنے کے لیے صرف پانچ منٹ دیے۔ اگرچہ فوجی کارروائیوں کے دوران فوری انخلا کے احکامات کو سیکیورٹی سے جوڑا جا رہا ہے، لیکن اتنی مختصر مہلت کے باعث متاثرہ خاندانوں کو اپنے سامان اور ضروری اشیا محفوظ طریقے سے منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو جبری بے دخلی کا خدشہ

اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم (B’Tselem) نے ہیبرون کے ایک محلے سے فلسطینی باشندوں کو نکالنے کے مبینہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یولی نوواک کے مطابق، اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور ان کے گھروں کی تباہی کے خدشات کو تقویت دیتے ہیں۔ تنظیم نے اس کارروائی کو محض سیکیورٹی اقدامات کے بجائے مقامی فلسطینی آبادی کی مستقبل کی رہائش سے جڑے ایک سنگین مسئلے کے طور پر دیکھا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری، تعمیرات پر پابندیاں اور نقل و حرکت محدود کیے جانے کے معاملات پہلے ہی تنازعات کا موضوع رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑیں اور ان کی واپسی غیر یقینی ہو جائے تو اس کے اثرات عارضی نقل مکانی سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، اسرائیلی حکام ان اقدامات کا دفاع سیکیورٹی ضروریات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ حملوں کو روکنے، مشتبہ افراد کی شناخت اور اسلحے کی تلاش کے لیے فوجی کارروائیاں ضروری ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کی ضرورت اور ان کے شہری آبادی پر اثرات کے درمیان توازن ایک اہم سوال ہے۔

فوجی کریک ڈاؤن کتنے عرصے تک جاری رہے گا؟

اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا ہے کہ ہیبرون اور اس کے گردونواح میں کارروائیاں کئی روز تک جاری رہ سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز مشتبہ مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں، اسلحے کی تلاش کر رہی ہیں اور متاثرہ علاقوں تک رسائی محدود کر رہی ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، حملہ آوروں کے زیرِ استعمال ایک گاڑی سے بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اسلحے کی یہ مقدار کسی بڑے حملے کی تیاری کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اسلحے کے مبینہ منصوبے کی تفصیلات الگ معاملہ ہیں۔

اسرائیلی فوج کے اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے فائرنگ کو سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کے فوری ردعمل سے مزید جانی نقصان روکنے میں مدد ملی۔

فوجی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کارروائیاں صرف فائرنگ کے مقام تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان علاقوں میں بھی تلاشی لی جائے گی جنہیں حملہ آوروں کی سرگرمیوں سے منسلک سمجھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے دوران سڑکوں کی بندش، چیک پوسٹوں اور شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں سے مقامی آبادی کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

فلسطینی شہریوں کے لیے اس کارروائی کے کیا معنی ہیں؟

ہیبرون میں تازہ فوجی کارروائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی، آبادکاری، املاک کے حقوق اور فلسطینی آبادی کی نقل مکانی کے معاملات پہلے ہی شدید تنازعات کا شکار ہیں۔

فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مکانات کی تباہی شہریوں کے لیے محض عمارتوں کے نقصان تک محدود نہیں رہتی۔ اس سے خاندانوں کی رہائش، روزگار، بچوں کی تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر بے گھر ہونے والے خاندانوں کو محفوظ متبادل رہائش یا اپنے گھروں کو واپس جانے کا موقع نہ ملے تو ان کی مشکلات طویل المدتی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد سیکیورٹی خطرات کا خاتمہ ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ مکانات کی مسماری اور انخلا کے احکامات فلسطینی شہریوں کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتے ہیں۔

یوں ہیبرون میں جاری کارروائی کے دو نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں: ایک طرف اسرائیل کا سیکیورٹی مؤقف اور مسلح حملے کے بعد جوابی کارروائی، اور دوسری طرف فلسطینی شہریوں کے گھروں، نقل و حرکت اور محفوظ رہائش کے حقوق سے متعلق خدشات۔

اس صورتحال کا اہم سوال یہ ہے کہ فوجی آپریشن ختم ہونے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے کی اجازت ملے گی یا نہیں، اور مسمار کیے گئے مکانات کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ ان سوالات کے جوابات ہی اس کارروائی کے انسانی اور سماجی اثرات کی مکمل تصویر واضح کر سکیں گے۔

1 Comment
  1. […] Read More: https://urdu.thepenpk.com/?p=10588 […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.