ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کیوں کھٹکھٹایا؟

0

نیوز ڈیسک

اسلام آباد: انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے سیکیورٹی خلاف ورزی سے متعلق مقدمے میں ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

دونوں کے خلاف مقدمے میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے لیے مختص سیکیورٹی روٹ میں خلل ڈالنے اور عوامی بے چینی پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، انہیں 7 اکتوبر کو فردِ جرم کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فردِ جرم عائد کرنے اور مقدمے میں دہشت گردی سے متعلق دفعات شامل کرنے کے خلاف ان کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مقصد اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا اور مقدمے کی کارروائی روکنے کی استدعا پر دوبارہ غور کرانا ہے۔

یہ مقدمہ انسانی حقوق، سیاسی اختلافِ رائے اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے اطلاق کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس معاملے کی پیش رفت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.