نیوز ڈیسک
اسلام آباد: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر قانونی نوٹس کی نقل بھی شیئر کی گئی ہے۔
چوہدری سالک حسین کے علاوہ نجی ٹی وی چینل کے میزبان نعیم اشرف بٹ اور چینل کی انتظامیہ کو بھی قانونی نوٹس ارسال کیے گئے ہیں۔
قانونی نوٹس کے مطابق چوہدری سالک حسین نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اور صوبے میں مبینہ کرپشن کی کہانیوں اور اس حوالے سے موجود فائلوں کا ذکر کیا تھا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے وکیل کا مؤقف ہے کہ وفاقی وزیر اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ نوٹس میں ان الزامات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز قرار دیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں ٹی وی میزبان پر بھی مبینہ طور پر غیر مصدقہ الزامات نشر کرنے اور ان پر بحث کو آگے بڑھانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق انٹرویو کے دوران کسی مستند واقعے، تحقیقات یا دستاویزی شکایت کا حوالہ نہیں دیا گیا، جبکہ کرپشن کے الزامات کے ذریعے وزیراعلیٰ مریم نواز اور پنجاب حکومت کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
چوہدری سالک کا کرپشن کے الزامات پر مؤقف برقرار
دوسری جانب وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری سالک حسین نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سب کو غرور اور تکبر سے محفوظ رکھے۔
صحافیوں نے وفاقی وزیر سے سوال کیا کہ کیا وہ پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات کے ثبوت پیش کریں گے، تاہم انہوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی سے متعلق سوال پر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر پہلے ہی تعینات ہے اور انہیں کسی افسر کی تعیناتی کروانے کا معاملہ درپیش نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختیار ملنے کے بعد انسان کو عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے بقول انہوں نے سچائی کی بنیاد پر جواب دیا ہے اور ان معاملات کا تعلق صوبوں سے نہیں ہے۔
مریم نواز نے ثبوت مانگے تھے یا عدالت جانے کا اعلان کیا تھا؟
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔
منگل کو اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ چوہدری سالک حسین دعویٰ کرتے ہیں کہ پنجاب میں کرپشن کے کیسز کی فائلوں سے الماریاں بھری ہوئی ہیں، اس لیے وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر ہیں اور انہیں الزامات لگانے کے بجائے ثبوت سامنے لانے چاہئیں۔ اگر ان کے پاس شواہد موجود ہیں تو وہ انہیں پیش کریں، بصورت دیگر وہ بے بنیاد الزامات برداشت نہیں کریں گی اور معاملہ عدالت میں لے جائیں گی۔
مریم نواز نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی کرپٹ ہے تو چوہدری سالک حسین اسی حکومت کا حصہ کیوں ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب میں افسران کی تعیناتیاں میرٹ پر کی جاتی ہیں اور سفارش پر تعینات ہونے والے افسران ملک اور عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق چوہدری سالک حسین کو اپنی مرضی کا ڈپٹی کمشنر گجرات تعینات نہ ہونے پر تکلیف ہے۔
مریم نواز نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی حکومت سے متعلق چوہدری سالک حسین کے بیان پر بھی تنقید کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ چوہدری سالک حسین پرویز الٰہی کے دور حکومت کو بہترین قرار دیتے ہیں، تاہم جب وہ بارش کے دوران گجرات گئیں تو وہاں پانی جمع ہونے کے باعث ان کی گاڑی ڈوب گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ گجرات میں نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونا سابق حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
