نیوز ڈیسک
ملتان :پنجاب کے شہر ملتان میں غیرت کے نام پر اپنی والدہ اور دو بہنوں کو مبینہ طور پر قتل کرکے زندہ جلانے کا ملزم امان عباسی کہروڑپکا میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا۔ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ذرائع نے ملزم کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم ملزم امان عباسی کو مزید تفتیش، برآمدگی اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے کہروڑپکا لے جا رہی تھی کہ راستے میں اس کے مسلح ساتھیوں نے اسے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔
پولیس اہلکاروں نے بھی جوابی کارروائی کی۔ اس دوران ملزم امان عباسی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا، جبکہ حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
پولیس نے ملزم کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی ہے، جبکہ فرار ہونے والے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
واقعے کا پس منظر
واضح رہے کہ 28 اکتوبر کو ملتان کے علاقے ڈی ایچ اے میں ایک گھر میں آتشزدگی کے نتیجے میں ایک خاتون اور ان کی دو بیٹیاں جاں بحق ہوگئی تھیں۔ ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا تھا، تاہم پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تینوں خواتین کو قتل کرنے کے بعد شواہد مٹانے کے لیے گھر کو آگ لگائی گئی تھی۔
پولیس تحقیقات کے مطابق مقتولہ کا بیٹا امان عباسی مبینہ طور پر اپنی والدہ اور دونوں بہنوں کے قتل میں ملوث تھا۔ ملزم نے پہلے تینوں خواتین کے سروں پر لکڑی سے وار کرکے انہیں بے ہوش کیا، جس کے بعد ان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تاکہ واقعے کو حادثے کا رنگ دیا جاسکے۔
تفتیش کے دوران پولیس نے اس پیٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی تھی جہاں سے ملزم نے مبینہ طور پر واردات کے لیے پیٹرول خریدا تھا۔
پولیس نے واقعے کا معمہ حل ہونے کے بعد تھانہ ڈی ایچ اے میں اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے امان عباسی کو گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس اور تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش اپنی والدہ اور دونوں بہنوں کے قتل کا اعتراف بھی کیا تھا۔
بعد ازاں ملزم کو مزید تفتیش اور شواہد کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ کہروڑپکا میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران وہ ہلاک ہوگیا۔
