تخت بھائی میں تین سالہ بچی کی مسخ شدہ لاش برآمد، جنسی زیادتی کے بعد قتل کا خدشہ

اکبر خان یوسفزئ

0

تخت بھائی:تخت بھائی کے علاقے شیرگڑھ سرکل میں تھانہ خرکی کی حدود میں واقع اکرام پور میں گزشتہ چار روز سے لاپتہ تین سالہ بچی کی مسخ شدہ لاش قریبی پہاڑ سے برآمد ہوئی ہے۔

بچی کے والد، یوسف خان، کراچی میں سول جج کی عدالت میں بطور سٹینو کام کر رہے ہیں، جبکہ بچی اپنی والدہ اور بہنوں کے ہمراہ نانی کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئی تھی۔

پولیس کو بچی کی گمشدگی کی اطلاع اس کے ماموں شاکر اللہ نے دی، جس کے بعد ڈی پی او مردان، ظہور بابر آفریدی کی ہدایت پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ڈی ایس پی تخت بھائی، ڈی ایس پی شیرگڑھ، اور ایس ایچ او خرکی شامل تھے۔

پولیس نے کئی دن کی تلاش کے بعد بچی کی لاش قریبی پہاڑوں سے برآمد کر لی اور اسے میڈیکل ٹیسٹ اور پوسٹ مارٹم کے لیے باچا خان میڈیکل کالج مردان منتقل کر دیا۔

ذرائع کے مطابق، کمسن بچی کو جنسی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش جاری رکھتے ہوئے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمران ٹکر نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک جنسی زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن یہ امکان خارج از امکان نہیں ہے، کیونکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں اکثر جنسی زیادتی کا پہلو سامنے آیا ہے۔

عمران ٹکر نے مزید کہا کہ 2024 کے ابتدائی چھ مہینوں میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 1630 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 94 کیسز پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے ہیں۔ بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنا ایک انتہائی گھناؤنا جرم ہے جو ملزمان اپنی شناخت چھپانے کے لیے کرتے ہیں، کیونکہ تحقیق کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے اکثر جان پہچان والے ہوتے ہیں۔

ٹکر نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے خاتمے کے لیے روک تھام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ ہمارا فوکس زیادہ تر وقوعے کے بعد کے ردعمل پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارا ردعمل نظام کمزور ہے اور ملزمان کو سزا دلوانا مشکل ثابت ہوتا ہے، جس سے متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.